نتیش کے بعد نشانت! چمپارن سے نئی سیاست کا آغاز، والد کا رتھ! والد کا راستہ، بہار میں “نشانت دور” کی تیاری

بہار کی سیاست میں طویل عرصے سے اٹھ رہے جانشینی کے سوالات کے درمیان وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار نے اتوار سے مغربی چمپارن سے اپنی “سدبھاؤ یاترا” کا آغاز کر دیا۔ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) اسے سماجی رابطہ اور تنظیمی توسیع کی یاترا قرار دے رہی ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں اسے “پوسٹ نتیش سیاست” کی باضابطہ شروعات مانا جا رہا ہے۔

پٹنہ واقع پارٹی دفتر سے روانہ ہونے سے پہلے نشانت کمار نے 7 سرکولر روڈ واقع رہائش گاہ پہنچ کر اپنے والد نتیش کمار سے آشیرواد لیا۔ اس کے بعد جے ڈی یو رہنماؤں اور کارکنان نے پھول مالاؤں کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور “نشچئے رتھ” پر یاترا کے لیے روانہ کیا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نشانت اسی جدید “نشچئے رتھ” پر نکلے ہیں، جس کا استعمال نتیش کمار نے 2025 اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک علامتی سیاسی پیغام بھی ہے کہ جے ڈی یو اب نئی نسل کی قیادت کو دھیرے دھیرے آگے بڑھا رہی ہے۔

مغربی چمپارن سے شروعات کے سیاسی معنی

نشانت کمار نے اپنی یاترا کی شروعات مغربی چمپارن سے کی ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے نتیش کمار اپنے کئی اہم سیاسی مہمات اور یاتراؤں کی شروعات کرتے رہے ہیں۔ جے ڈی یو رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چمپارن گاندھی اور سماجی تبدیلی کی سرزمین رہی ہے، اسی لیے یاترا کا آغاز یہیں سے کیا گیا۔

تاہم سیاسی گلیاروں میں اسے جے ڈی یو کے “جانشینی ماڈل” کا اشارہ مانا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر طویل عرصے سے یہ بحث چل رہی تھی کہ نتیش کمار کے بعد قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ اب نشانت کمار کی سرگرمیوں نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔

سدبھاؤ” کے ذریعے سماجی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش

یاترا شروع کرنے سے پہلے نشانت کمار نے کہا کہ ان کا مقصد بہار کے تمام طبقات — غریبوں، دلتوں، پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات اور اقلیتوں — سے رابطہ قائم کرنا ہے۔ جے ڈی یو طویل عرصے سے سماجی توازن اور شمولیتی سیاست کی لائن پر کام کرتی رہی ہے۔ ایسے میں پارٹی اس یاترا کے ذریعے اپنے روایتی سماجی ووٹ بینک کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتی نظر آ رہی ہے۔

یاترا کے دوران نشانت پنچایت سطح تک کارکنان اور مقامی لوگوں سے ملاقات کریں گے اور تنظیم کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

جے ڈی یو رہنماؤں کے بیانات سے بڑھی قیاس آرائیاں

جے ڈی یو رہنماؤں کے بیانات نے بھی سیاسی بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ “تیر انہیں سونپ دیا گیا ہے”۔ وہیں قومی ترجمان راجیو رنجن نے کہا کہ کارکنان کو نشانت کمار سے بڑی امیدیں ہیں اور وہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

پارٹی کے نوجوان اراکینِ اسمبلی کی ایک ٹیم بھی نشانت کمار کے ساتھ یاترا میں شامل ہے۔ اس میں رتوراج، شُبھ آنند مکیش، چیتن آنند اور روحیل رنجن جیسے نوجوان چہرے شامل ہیں۔ اسے جے ڈی یو میں نئی نسل کو آگے لانے کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خاندانی سیاست کے الزامات پر جے ڈی یو کا دفاع

نشانت کمار کی فعال سیاست میں انٹری کے بعد اپوزیشن نے خاندانی سیاست کا مسئلہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ تاہم جے ڈی یو رہنما مسلسل یہ صفائی دے رہے ہیں کہ نشانت کو براہِ راست اقتدار یا تنظیم میں بڑا عہدہ نہیں دیا گیا بلکہ انہیں عوام کے درمیان بھیجا گیا ہے۔

جے ڈی یو کے رکنِ اسمبلی ونئے چودھری نے کہا کہ اگر نشانت کو سیدھا وزیر یا نائب وزیرِ اعلیٰ بنایا جاتا تب خاندانی سیاست کا الزام درست ہوتا۔ ان کے مطابق نشانت جدوجہد کے راستے سیاست میں آئے ہیں اور اب عوام ہی طے کریں گے کہ ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔

کئی مرحلوں میں جاری رہے گی یاترا

جے ڈی یو ذرائع کے مطابق “سدبھاؤ یاترا” کئی مرحلوں میں پورے بہار میں نکالی جائے گی۔ مغربی چمپارن کے بعد اگلا مرحلہ ویشالی میں منعقد ہوگا۔ پارٹی تنظیم کو اس یاترا کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ یاترا صرف ایک تنظیمی مہم نہیں بلکہ بہار کی بدلتی سیاست میں جے ڈی یو کی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ تیجسوی یادو کی قیادت میں آر جے ڈی جہاں نوجوانوں اور روزگار کے مسائل پر سیاست کر رہی ہے، وہیں بی جے پی بھی نئے سماجی مساوات قائم کرنے میں مصروف ہے۔ ایسے میں جے ڈی یو اب مستقبل کے چہرے کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

بہار کی سیاست میں نئی اننگ؟

اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا نشانت کمار صرف نتیش کمار کی سیاسی وراثت کی علامت بن کر رہ جائیں گے یا وہ خود کو بہار کی سیاست میں ایک آزاد اور بااثر لیڈر کے طور پر قائم کر پائیں گے؟

فی الحال اتنا طے مانا جا رہا ہے کہ “سدبھاؤ یاترا” نے بہار کی سیاست میں جانشینی کی بحث کو مرکز میں لا دیا ہے اور جے ڈی یو کے اندر ایک نئے سیاسی باب کی شروعات کر دی ہے۔

دہلی کے جنتا منتر پر جن سوراج کا احتجاج: پانڈو قتل کیس میں ایس.آئی.ٹی تحقیقات، معاوضے اور نوکری کے مطالبات تیز

دہلی میں بہاری نوجوان پانڈو کے مبینہ قتل کے معاملے نے اتوار کے روز راجدھانی