دربھنگہ میں اپوزیشن کی طاقت کا مظاہرہ: 16 سے 18 مئی کو سی.پی.آئی–ایم.ایل کی ریاستی کانفرنس میں انڈیا بلاک رہنماؤں کا ہوگا بڑا اجتماع

بہار کی سیاست ایک بار پھر نئے سیاسی اتحادوں اور تیز ہوتی نظریاتی کشمکش کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں سی پی آئی–ایم ایل نے اپنے 12ویں بہار ریاستی کانفرنس کو صرف ایک تنظیمی پروگرام تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع سیاسی مکالمے اور اپوزیشن اتحاد کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ 16 سے 18 مئی 2026 تک دربھنگہ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے اوپن سیشن میں انڈیا بلاک کے مختلف اتحادی جماعتوں کے ریاستی سطح کے رہنماؤں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پارٹی کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو باضابطہ دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں مانا جا رہا ہے کہ یہ کانفرنس بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال، بی جے پی کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اپوزیشن جماعتوں کو درپیش چیلنجز کے درمیان ایک اہم سیاسی پیغام دینے کی کوشش ہوگی۔

سی پی آئی–ایم ایل کے بہار ریاستی سکریٹری کنال نے پٹنہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک اور بہار دونوں سنگین سیاسی حالات سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلتے ہوئے بہار کی حکومت پر مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

کنال نے کہا کہ حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے اپوزیشن سیاست کے سامنے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ خاص طور پر مغربی بنگال میں بی جے پی کی غیر متوقع کامیابی اور تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی شکست کو انہوں نے قومی سیاست میں بڑی تبدیلیوں کا اشارہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ان نتائج نے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی حکمت عملی اور اتحاد پر نئے سرے سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انہوں نے بہار میں بڑھتے ہوئے “بلڈوزر راج” اور جمہوری اداروں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف عوامی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔ کنال کے مطابق بہار اس وقت ایک اہم سیاسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کی تاریخی ذمہ داری سامنے ہے۔

سی پی آئی–ایم ایل قیادت کا کہنا ہے کہ دربھنگہ کانفرنس کا مقصد صرف تنظیمی جائزہ لینا نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشترکہ جدوجہد کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں جمہوری طاقتوں کا وسیع اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔

CPI ML, Bihar Politics, India Bloc, Darbhanga, Kunal, BJP, Nitish Kumar, Opposition Unity, Bihar News, West Bengal, DMK, Indian Politics

دہلی کے جنتا منتر پر جن سوراج کا احتجاج: پانڈو قتل کیس میں ایس.آئی.ٹی تحقیقات، معاوضے اور نوکری کے مطالبات تیز

دہلی میں بہاری نوجوان پانڈو کے مبینہ قتل کے معاملے نے اتوار کے روز راجدھانی