بہار میں خواتین کے خلاف جرائم کی دو انتہائی سنگین اور دل دہلا دینے والی وارداتوں نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بُکسر اور گیا اضلاع سے سامنے آنے والے ان واقعات نے نہ صرف پولیس انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ عوام میں خوف اور شدید غصے کی فضا بھی پیدا کر دی ہے۔
*بکسر: شادی تقریب کے بعد رقاصہ کو بہلا پھسلا کر 24 گھنٹے تک یرغمال بنا کر اجتماعی زیادتی
بکسر ضلع کے راجپور تھانہ علاقے میں ایک 25 سالہ رقاصہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا انتہائی سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون کو ایک شادی کی تقریب میں پرفارمنس کے لیے بلایا گیا تھا، تاہم تقریب ختم ہونے کے بعد اسے منصوبہ بندی کے تحت جرائم پیشہ افراد نے اپنے جال میں پھنسایا۔
الزام کے مطابق ایک نوجوان اسے بہلا پھسلا کر دریا کے کنارے لے گیا جہاں پہلے سے کئی افراد موجود تھے۔ وہاں اسے زبردستی یرغمال بنا لیا گیا اور تقریباً 24 گھنٹے تک رکھا گیا، جس دوران 4 سے 5 افراد نے باری باری اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔
متاثرہ کے مطابق اس دوران اس پر تشدد کیا گیا، اس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے اور اسے ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد ملزمان اسے بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر اس کا موبائل فون اور نقدی بھی لے کر فرار ہوگئے۔
ہوش میں آنے کے بعد متاثرہ کسی طرح اپنے گاؤں پہنچی اور اہلِ علاقہ کو واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
گیا: ٹرین میں چَین پلنگ کر خاتون کو اتارا گیا، پھر سنسان علاقے میں اجتماعی زیادتی؛ 10 مشتبہ افراد گرفتار
دوسرا واقعہ گیا ضلع کے بیلگنج تھانہ علاقے کا ہے، جہاں ایک خاتون کے ساتھ منصوبہ بند سازش کے تحت اجتماعی زیادتی کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاتون جہان آباد سے گیا سفر کر رہی تھی کہ دورانِ سفر چَین پلنگ کر ٹرین روک دی گئی، جس کے باعث وہ ایک سنسان مقام پر اترنے پر مجبور ہوگئی۔ جیسے ہی وہ نیچے اتری، پہلے سے موجود چار سے زائد افراد نے اسے گھیر لیا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد متاثرہ نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ فرانزک ٹیم کو بھی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تمام ملزمان کی شناخت تقریباً ہو چکی ہے اور جلد ہی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔
پولیس کا دعویٰ: جلد گرفتاریاں، خصوصی ٹیمیں تشکیل
دونوں واقعات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش تیز کر دی گئی ہے اور کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا۔
& غصہ، سخت کارروائی کا مطالبہ
ان واقعات کے بعد مقامی سطح پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ عوام نے ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ خواتین کی حفاظت کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
بکسر اور گیا کے یہ واقعات ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کی حفاظت کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ شادی کی تقریبات سے لے کر ریلوے سفر تک، کہیں بھی محفوظ ماحول کا نہ ہونا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
BiharNews #Buxar #Gaya #CrimeNews #WomenSafety #GangRapeCase #BreakingNews #InsaafTimes #BiharCrime #LawAndOrder #RailwayCrime #SocialIssue #JusticeForVictim