بہار میں این ڈی اے کابینہ توسیع: سمراٹ چودھری حکومت میں 32 نئے وزراء کی شمولیت، ای بی سی، دلت اور او بی سی توازن پر بڑا زور، نشانت کمار کی انٹری سے جانشینی کی سیاست تیز، پٹنہ کے گاندھی میدان میں وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں شاندار حلف برداری تقریب

بہار کی سیاست نے جمعرات کے روز ایک نیا موڑ اختیار کر لیا۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے پہلے بڑے کابینہ توسیعی اجلاس نے نہ صرف نئے وزراء کو حلف دلایا بلکہ ریاست کی بدلتی ہوئی سماجی اور سیاسی سمت کا ایک نیا نقشہ بھی پیش کیا۔

پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں منعقد شاندار تقریب میں 32 نئے وزراء کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا گیا۔ گورنر سید عطا حسنین نے وزراء سے حلف لیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، این ڈی اے کے سینئر رہنما اور بڑی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔

گاندھی میدان کو جس انداز میں سیاسی طاقت کے مظاہرے کے مرکز میں تبدیل کیا گیا، اس سے واضح اشارہ ملا کہ این ڈی اے اس پروگرام کو صرف آئینی کارروائی نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی سیاسی سمت طے کرنے والے پیغام کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

تاہم اس پورے واقعے میں وزراء کے ناموں سے زیادہ اہم بحث اس کے پیچھے چھپے سماجی اور انتخابی حساب کتاب کی رہی۔

اقتدار کی تبدیلی کے بعد پہلا بڑا سیاسی مظاہرہ

دو ہزار چھبیس میں نتیش کمار کے فعال اقتدار سے الگ ہونے اور سمراٹ چودھری کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب این ڈی اے نے اپنے پورے سماجی اتحاد کو دوبارہ منظم کیا۔

سمراٹ چودھری خود کوئری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ دو نائب وزرائے اعلیٰ بنائے گئے— وجے چودھری اور وجیندر یادو۔

یعنی قیادت کی سطح پر ہی این ڈی اے نے اعلیٰ ذات، پسماندہ طبقات اور انتہائی پسماندہ طبقات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ای بی سی اور غیر یادو او بی سی پر خصوصی توجہ

اس کابینہ کی سب سے نمایاں خصوصیت انتہائی پسماندہ طبقات اور غیر یادو او بی سی کو دی گئی بھرپور نمائندگی ہے۔

کانو، ماہی گیر، دھانک، گنگوتا، چندروَشی، سُوڑی، نشاد، کشواہا اور دیگر طبقات کے رہنماؤں کو اہم جگہ دے کر این ڈی اے نے واضح اشارہ دیا ہے کہ بہار کی نئی سیاست اب انہی سماجی گروہوں کے گرد مرکوز ہوگی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کوٹے سے کیدار گپتا، رما نشاد، دیلیپ جیسوال، پرمود چندروَشی اور ارون شنکر پرساد جیسے نام شامل کیے گئے، جبکہ جنتا دل یونائیٹڈ نے نشانت کمار، بھگوان سنگھ کشواہا، مدن سہنی، شیلا منڈل، دامودار راؤت اور بلو منڈل جیسے رہنماؤں کو جگہ دی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق این ڈی اے اب بہار میں “مسلم و یادو” سیاسی فارمولے کے مقابلے میں “ای بی سی، غیر یادو او بی سی اور دلت” اتحاد کو مضبوط سیاسی بنیاد میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

دلت سیاست پر بھی بڑا داؤ

کابینہ میں دلت اور مہادلت طبقات کو بھی مضبوط نمائندگی دی گئی ہے۔

اشوک چودھری، نند کشور رام، رتنیش سدا، لکھندر پاسوان، سنتوش ماںجھی اور سنجے پاسوان جیسے رہنماؤں کو شامل کر کے این ڈی اے نے دلت ووٹ بینک کو اپنے ساتھ رکھنے کی حکمت عملی کو مزید مضبوط کیا ہے۔

خاص طور پر جیتن رام ماںجھی کے بیٹے سنتوش ماںجھی کو دوبارہ وزیر بنانا مہادلت سیاست کو منظم کرنے کی اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

مسلم نمائندگی بھی زیر بحث

اس کابینہ میں مسلم برادری سے جنتا دل یونائیٹڈ کے رکن جمعہ خان کو شامل کیا گیا ہے۔ این ڈی اے بہار میں مسلم کمیونٹی کے اندر محدود لیکن علامتی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

اگرچہ اپوزیشن اسے محض علامتی نمائندگی قرار دے رہی ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش ضرور نظر آتی ہے کہ این ڈی اے مکمل طور پر یک رنگ سماجی ڈھانچہ پیش نہیں کرنا چاہتی۔

نشانت کمار کی شمولیت سے سیاسی ہلچل

اس پورے توسیعی عمل میں سب سے زیادہ زیر بحث واقعہ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کا وزیر بننا رہا۔

طویل عرصے تک سیاست سے دور رہنے والے نشانت کی شمولیت نے بہار کی سیاست میں جانشینی کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔

حلف برداری سے قبل ان کا اپنے والد نتیش کمار کے قدم چھو کر آشیرواد لینا تقریب کی سب سے نمایاں تصویر بن گئی۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث زوروں پر ہے کہ جنتا دل یونائیٹڈ “نتیش کے بعد” کی سیاست کی تیاری کر رہی ہے۔

اعلیٰ ذات کا توازن بھی برقرار

اگرچہ این ڈی اے نے ای بی سی اور او بی سی طبقات پر زیادہ توجہ دی، لیکن اعلیٰ ذات کے توازن کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

بھومیہار طبقے سے وجے کمار سنہا، انجینئر کمار شیلندر اور وجے چودھری کو جگہ ملی۔ برہمن طبقے سے نتیش مشرا اور متھیلیش تیواری شامل ہیں۔

راجپوت برادری سے سنجے ٹائیگر، شرییسی سنگھ، لیزی سنگھ اور سنجے سنگھ کو نمائندگی دی گئی ہے۔

خواتین کی نمائندگی

کابینہ میں خواتین کی تعداد محدود ہے، لیکن سیاسی طور پر اہم چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔

شرییسی سنگھ، لیزی سنگھ، شیلا منڈل اور شویتا گپتا کو وزیر بنا کر این ڈی اے نے خواتین کی نمائندگی اور سماجی توازن دونوں کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔

اتحادی جماعتوں کو بھی جگہ

چِراغ پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) سے سنجے پاسوان اور سنجے سنگھ کو وزیر بنایا گیا، جبکہ ہندستانی عوام مورچہ سے سنتوش ماںجھی کو جگہ ملی۔

قومی لوک مورچہ سے اوپندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کو وزیر بنایا گیا ہے۔ تاہم وہ فی الحال کسی ایوان کے رکن نہیں ہیں، اس لیے انہیں چھ ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا ہوگا۔

دو ہزار انتیس کی سیاست کا اشارہ؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ کابینہ صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ دو ہزار انتیس کی قومی سیاست کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا سماجی اور انتخابی ماڈل ہے۔

وزیر اعظم مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت بہار میں غیر یادو او بی سی، ای بی سی، دلت اور اعلیٰ ذات کے ووٹ بینک کو ایک مستقل سیاسی اتحاد میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

اسی لیے اس کابینہ میں ہر سماجی نمائندگی کو انتہائی حکمت کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔

BiharPolitics #SamratChoudhary #BiharCabinet #NDA #NitishKumar #NishantKumar #JDU #BJP #LJP #HAM #RLM #BiharNews #CastePolitics #EBC #OBC #DalitPolitics #Patna #InsaafTimes

دہلی کے جنتا منتر پر جن سوراج کا احتجاج: پانڈو قتل کیس میں ایس.آئی.ٹی تحقیقات، معاوضے اور نوکری کے مطالبات تیز

دہلی میں بہاری نوجوان پانڈو کے مبینہ قتل کے معاملے نے اتوار کے روز راجدھانی