کیرالہ میں بائیں بازو کے محاذ کی شکست کے ساتھ بھارت میں کمیونسٹ سیاست اپنے سب سے کمزور دور میں داخل، پانچ دہائیوں بعد ملک میں کوئی بھی بائیں بازو کا وزیرِ اعلیٰ نہیں ہوگا۔

کیرالہ میں بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کی شکست کے ساتھ ہی بھارتی سیاست میں ایک تاریخی باب تقریباً اختتام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملک میں پہلی بار گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں میں ایسا ہوگا جب کسی بھی ریاست میں کمیونسٹ جماعت کا کوئی وزیرِ اعلیٰ اقتدار میں نہیں رہے گا۔ اسے ہندوستانی بائیں بازو کی سیاست کے مسلسل سکڑتے عوامی دائرۂ اثر اور کمزور ہوتے سیاسی اثرورسوخ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال، تریپورہ اور کیرالہ ایک طویل عرصے تک ہندوستانی بائیں بازو کی سیاست کے مضبوط ستون مانے جاتے رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں 1977 سے 2011 تک مسلسل 34 برسوں تک لیفٹ فرنٹ نے حکومت کی، جسے دنیا کی طویل ترین جمہوری بائیں بازو کی حکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم 2011 میں ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس نے اس طویل اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

اس کے بعد تریپورہ میں بھی 1993 سے 2018 تک جاری بائیں بازو کی حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ابھار کے سامنے برقرار نہ رہ سکی۔ 2018 میں بی جے پی نے وہاں اقتدار حاصل کیا اور 2023 میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط رکھی۔ اب کیرالہ میں لیفٹ فرنٹ کی شکست کے بعد ملک میں بائیں بازو کی کسی جماعت کا کوئی وزیرِ اعلیٰ باقی نہیں رہے گا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صرف ایک انتخابی شکست نہیں بلکہ ہندوستانی بائیں بازو کی تحریک کو درپیش طویل المدتی سیاسی اور نظریاتی بحران کا نتیجہ ہے۔

2004 سے زوال کا آغاز

قومی سیاست میں بائیں بازو کی جماعتوں کا سب سے مؤثر دور 2004 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد مانا جاتا ہے۔ اس وقت سی پی ایم، سی پی آئی اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں نے مل کر 59 نشستیں حاصل کی تھیں اور یو پی اے-1 حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ اُس وقت کی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے لے کر بھارت-امریکہ ایٹمی معاہدے تک، کئی بڑے معاملات میں بائیں بازو کی جماعتوں کا دباؤ واضح طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ تاہم 2008 میں یو پی اے حکومت سے حمایت واپس لینے کے بعد بائیں بازو کی سیاسی گرفت مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی۔

2009 میں بائیں بازو کی جماعتوں کی نشستیں گھٹ کر 24 رہ گئیں، 2014 میں یہ تعداد صرف 10 تک محدود ہو گئی، جبکہ 2019 میں بائیں بازو کی جماعتیں محض 5 نشستیں جیت سکیں۔ اس وقت لوک سبھا میں سی پی ایم اور سی پی آئی کی نمائندگی نہایت محدود رہ گئی ہے۔ ان میں بھی کئی اراکینِ پارلیمان اتحادی جماعتوں کی حمایت سے کامیاب ہو کر ایوان تک پہنچے ہیں۔

بدلتی سیاست میں کمزور پڑتی بائیں بازو کی بنیاد

ماہرین کے مطابق معاشی آزاد کاری کے بعد بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی ڈھانچے نے بائیں بازو کی سیاست کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ روایتی مزدور اور کسان بنیاد پر قائم سیاست کا اثر کم ہوا، جبکہ نئی نسل ترقی، روزگار، سماجی انصاف، نمائندگی اور شناخت پر مبنی سیاست کی جانب زیادہ مائل ہوئی۔ اس کے علاوہ بی جے پی اور علاقائی جماعتوں کی تیزی سے توسیع نے بھی بائیں بازو کی جماعتوں کے سماجی ووٹ بینک کو کمزور کیا۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور تریپورہ میں بی جے پی نے بائیں بازو کے روایتی ووٹ بینک میں بڑی دراڑ ڈال دی۔

کیرالہ آخری مضبوط قلعہ تھا

کیرالہ کو طویل عرصے تک بائیں بازو کی سیاست کا سب سے مضبوط اور مستحکم مرکز سمجھا جاتا رہا۔ پنارائی وجین کی قیادت میں ایل ڈی ایف حکومت نے 2021 میں مسلسل دوسری بار اقتدار میں واپس آ کر تاریخ بھی رقم کی تھی۔ لیکن حالیہ شکست نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اب کیرالہ میں بھی بائیں بازو کی سیاسی زمین پہلے جیسی محفوظ نہیں رہی۔

نظریاتی وجود کا چیلنج

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج اپنے نظریاتی اور تنظیمی ڈھانچے کو نئے سماجی اور سیاسی ماحول کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ کبھی قومی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی بائیں بازو کی جماعتیں آج محدود علاقائی اثر تک سمٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔ کیرالہ کی شکست کے بعد بھارتی سیاست میں یہ بحث مزید تیز ہو گئی ہے کہ آیا بائیں بازو کی جماعتیں مستقبل میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کر پائیں گی یا پھر ان کا اثر آہستہ آہستہ تاریخ کے صفحات تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

دہلی کے جنتا منتر پر جن سوراج کا احتجاج: پانڈو قتل کیس میں ایس.آئی.ٹی تحقیقات، معاوضے اور نوکری کے مطالبات تیز

دہلی میں بہاری نوجوان پانڈو کے مبینہ قتل کے معاملے نے اتوار کے روز راجدھانی