بہار کانگریس کے اندر بڑھتا ہوا عدم اطمینان اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور اے آئی سی سی کے رکن آنند مادھو نے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے تنظیم کی موجودہ کارکردگی اور قیادت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے الزامات نے نہ صرف ریاستی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے بلکہ بہار کانگریس کی زمینی حیثیت پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آنند مادھو نے اپنے بیان میں کہا کہ بہار کانگریس اب زمینی سطح پر سرگرم تنظیم نہیں رہی، بلکہ اس کی سرگرمیاں محض آن لائن مہمات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے “سریجن ساتھی جن سمپرک ابھیان” کو کارکنان کو گمراہ کرنے والا قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس طرح کی مہمات حقیقی تنظیمی مضبوطی کے بجائے محض دکھاوے پر مرکوز ہیں۔
ریاستی کانگریس صدر راجیش رام اور بہار انچارج کرشنا الوارو پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلسل نئے “تجربات” کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کوششوں کا مقصد کارکنان کو اصل مسائل سے بھٹکانا ہے، نہ کہ تنظیم کو مضبوط بنانا۔
اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے آنند مادھو نے بتایا کہ سابق ریاستی صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا کے دور میں بھی ڈیجیٹل رکنیت مہم چلائی گئی تھی، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود جنوبی بہار کے 21 اضلاع کے کوآرڈی نیٹر رہے ہیں اور اس وقت اس مہم کے اثرات زمینی سطح پر نظر آئے تھے۔
حال ہی میں مقرر کیے گئے 52 ضلعی صدور کو لے کر بھی انہوں نے سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل رکنیت کی بنیاد پر تقرری کی شرط رکھی گئی، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن اضلاع میں اس عمل کی صحیح طریقے سے پیروی کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی اضلاع میں ایسے افراد کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں جو انتخابی سیاست میں ناکام رہے ہیں۔
آنند مادھو نے تنظیم کے اندر ایک “گہری سازش” کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ سازش بہار کانگریس کو کمزور کر کے دیگر سیاسی جماعتوں کے اثر میں لانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے رکنیت مہم کے دوران مالی بے ضابطگیوں کا اندیشہ بھی ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ مقررہ فیس سے زیادہ وصولی کی جا رہی ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کانگریس قیادت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ نظام میں جلد تبدیلی نہ کی گئی تو بہار میں کانگریس کا وجود سنگین خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ تنظیم کی قیادت ایسے افراد کو سونپی جائے جو عملی سیاست سے جڑے ہوں اور زمینی سطح پر کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہوں۔
بہار میں آنے والے سیاسی چیلنجز کے درمیان کانگریس کے اندر ابھرتی یہ اختلافات پارٹی کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پارٹی قیادت ان الزامات پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور تنظیم کو متحد رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔