بہار کی سیاست میں ایک بار پھر تلخی بڑھ گئی ہے۔ باراچٹی کی رکن اسمبلی جیوتی دیوی پر مبینہ حملے کے معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ اس واقعے پر ریاستی وزیر اور ہم (ہندوستانی عوام مورچہ) کے قومی صدر سنّتوش سمن نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے حامیوں کو “حد میں رہنے” کی نصیحت کی ہے۔
یہ واقعہ ضلع گیا کے موہن پور علاقے میں 17 مئی کو پیش آیا بتایا جا رہا ہے، جہاں رکن اسمبلی کے قافلے کو روکنے اور مارپیٹ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
“بہار بدل چکا ہے” سنّتوش سمن کا انتباہ
سنّتوش سمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے پیچھے آر جے ڈی کے حامی ہو سکتے ہیں اور یہ ایک منظم سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار اب بدل چکا ہے اور “کسی مخصوص ذات کی غنڈہ گردی کا دور ختم ہو چکا ہے”۔ انہوں نے تیجسوی یادو سے اپیل کی کہ وہ اپنے حامیوں کو قابو میں رکھیں اور ریاست میں امن قائم رکھیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
رکن اسمبلی جیوتی دیوی کے مطابق وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت موہن پور بلاک کے ایک گاؤں جا رہی تھیں۔ اسی دوران راستے میں ایک گاڑی کے ذریعے سڑک بلاک کر دی گئی، جس سے ان کا قافلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
بعد ازاں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
الزامات کے مطابق پیش آنے والے واقعات:
15 سے 20 افراد کی جانب سے احتجاج اور تلخ کلامی
محافظوں کے ساتھ مارپیٹ کے الزامات
مبینہ طور پر ذات پات پر مبنی نعرے اور الفاظ کا استعمال
رکن اسمبلی کی گاڑی پر حملے کی کوشش
موقع پر افراتفری اور کشیدگی
انتخابات کے بعد مسلسل ہراسانی کا دعویٰ
جیوتی دیوی نے پولیس کو دی گئی شکایت میں کہا ہے کہ 2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے انہیں اور ان کے حامیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعدد افراد کو نامزد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کی تفتیش جاری
بودھ گیا کے ایس ڈی پی او امت جیسوال نے بتایا کہ پولیس نے موقع کا معائنہ کر لیا ہے اور درخواست کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
جیتن رام مانجھی کی وارننگ
مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور متعلقہ تھانہ انچارج کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ وقت میں کارروائی نہ ہوئی تو ان کی پارٹی ڈی ایم اور ایس پی دفاتر کا گھیراؤ کرے گی اور احتجاج شروع کرے گی۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
اس واقعے نے بہار کی سیاست میں نیا تنازع پیدا کر دیا ہے۔ ہم پارٹی اسے اپنے رکن اسمبلی پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن پر الزامات کے باعث سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اب صرف ایک مقامی تنازع نہیں رہا بلکہ ریاست کی قانون و نظم اور سیاسی ماحول دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
تحقیقات جاری، نتیجے کا انتظار
فی الحال پولیس تفتیش جاری ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کی تصدیق کے بعد ہی حتمی کارروائی کی جائے گی۔ ابھی کسی بھی فریق پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا ہے۔