“ضمانت اصول ہے، جیل نہیں”: عمر خالد کیس پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس سے یو.اے.پی.اے مقدمات میں نئی آئینی بحث تیز

یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے تازہ ریمارکس نے ملک کے فوجداری نظامِ انصاف اور آئینی حقوق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز کہا کہ “ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا”، اور یہ اصول یو اے پی اے جیسے سخت قوانین میں بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

جسٹس بی۔ وی۔ ناگارتھنا اور جسٹس اُجّل بھویان کی بنچ نے سماعت کے دوران یہ بھی اشارہ دیا کہ جنوری 2026 میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والے فیصلے میں بڑی بنچ کے طے کردہ اصولوں پر مناسب طریقے سے عمل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ چھوٹی بنچیں بڑی بنچ کے فیصلوں سے الگ نہیں جا سکتیں۔

کے.اے نجیب فیصلہ کا حوالہ

سپریم کورٹ نے 2021 کے مشہور “یونین آف انڈیا بنام کے.اے نجیب” فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملزم کا ٹرائل طویل عرصے تک مکمل نہ ہو پا رہا ہو، تو عدالتیں آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل ذاتی آزادی اور فوری سماعت کے حق کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

عدالت نے کہا کہ یو اے پی اے کی سخت دفعات بھی آئینی حقوق کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔ عدالت کے مطابق، بڑی بنچ کے فیصلے تمام چھوٹی بنچوں پر لازم ہوتے ہیں اور ان پر عمل کرنا عدالتی نظم و ضبط کا حصہ ہے۔

کس معاملے میں آیا یہ تبصرہ؟

یہ تبصرہ جموں و کشمیر کے ایک مبینہ “نارکو-ٹیرر” معاملے میں ملزم سید افتخار اندرابی کو ضمانت دیتے وقت کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ برسوں تک بغیر ٹرائل کسی کو جیل میں رکھنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔

عمر خالد کو ضمانت کیوں نہیں ملی تھی؟

جنوری 2026 میں سپریم کورٹ کی ایک دوسری بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ عدالت نے اُس وقت کہا تھا کہ دونوں ملزمان کا کردار دیگر شریک ملزمان کے مقابلے میں “معیاری طور پر مختلف” اور زیادہ سنگین ہے۔

عدالت نے مانا تھا کہ استغاثہ کے پاس بادی النظر میں کافی مواد موجود ہے، جس کی وجہ سے یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) لاگو ہوتی ہے۔ اسی دفعہ کے تحت یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت حاصل کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اسی معاملے میں پانچ دیگر شریک ملزمان کو راحت دی گئی تھی۔

طویل قید بمقابلہ قومی سلامتی

سپریم کورٹ کے تازہ ریمارکس کو قانونی ماہرین اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ عدالت کے اندر بھی یو اے پی اے مقدمات میں طویل پری-ٹرائل حراست کو لے کر سنجیدہ تشویش موجود ہے۔

ایک طرف عدالتیں قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کی سختی پر زور دیتی رہی ہیں، تو دوسری طرف حالیہ تبصرے ذاتی آزادی اور فوری انصاف کے حق کو ترجیح دینے کی بات کر رہے ہیں۔

پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں عمر خالد

دہلی فساد “بڑی سازش” معاملے میں عمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ اس معاملے میں اب تک ٹرائل مکمل طور پر شروع نہیں ہو پایا ہے۔

دہلی پولیس کا الزام ہے کہ CAA-NRC مخالف مظاہروں کی آڑ میں منظم سازش رچی گئی تھی، جبکہ ملزمان مسلسل ان الزامات کو سیاسی اختلافِ رائے کو جرم میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیتے رہے ہیں۔

آگے کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس مستقبل میں یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اُن معاملات میں جہاں ملزمان طویل عرصے سے بغیر ٹرائل جیل میں ہیں۔

فی الحال عدالت کے اس تبصرے کو صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے یو اے پی اے سے متعلق عدالتی نظریات اور آئینی آزادیوں کی بحث میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مالے کنونشن میں تنظیمی توسیع کا بڑا فیصلہ، کنال ایک بار پھر ریاستی سیکریٹری منتخب؛ “بلڈوزر راج” کے خلاف تیز تر جدوجہد کا اعلان

بھاکپا-مالے کا بارہواں بہار ریاستی کنونشن تین دنوں تک جاری وسیع سیاسی بحث، تنظیمی جائزہ

“اب اضلاع پر سیکریٹریٹ کی سیدھی نظر”: بہار میں انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیمِ نو، 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو اضلاع کی کمان

بہار حکومت نے انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ضلعی سطح پر جوابدہی کو