جنوبی ہند میں تیزی سے گرتی شرحِ پیدائش اور بدلتے ہوئے آبادیاتی توازن کے درمیان آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جس نے پورے ملک میں نئی سیاسی، سماجی اور معاشی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت تیسرے بچے کی پیدائش پر خاندانوں کو ۳۰ ہزار روپے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر ۴۰ ہزار روپے کی مالی امداد دے گی۔
ضلع سریکاکولم کے نرساں ناپیٹا میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ “بچے قوم کی دولت ہیں، بوجھ نہیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاست میں آبادی کی شرحِ نمو مسلسل کم ہوتی رہی تو آنے والے برسوں میں افرادی قوت، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خاندانی منصوبہ بندی سے “آبادی بڑھاؤ” تک: نائیڈو کی سیاست کیوں بدلی؟
یہ اعلان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ کبھی خود چندرابابو نائیڈو آبادی پر قابو پانے اور خاندانی منصوبہ بندی کے بڑے حامی رہے ہیں۔ لیکن اب انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ وقت بدل چکا ہے اور سماج کو شرحِ پیدائش بڑھانے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی آمدنی، شہری طرزِ زندگی اور بدلتی سماجی ترجیحات کی وجہ سے اب بہت سے خاندان صرف ایک ہی بچہ پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ خاندان دوسرا بچہ بھی صرف اسی صورت میں چاہتے ہیں جب پہلا بچہ لڑکی ہو۔ نائیڈو نے اسے مستقبل کے لیے “خطرناک سماجی اشارہ” قرار دیا۔
“چلڈرن آر ویلتھ”: نئی پالیسی کا خاکہ تیار
آندھرا حکومت اس پوری اسکیم کو “بچے ہی اصل دولت ہیں” مہم کے تحت نافذ کرنے جا رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے اشارہ دیا ہے کہ یہ صرف نقد امداد کی اسکیم نہیں ہوگی بلکہ اس کے ساتھ بچوں کی تعلیم، صحت، غذائیت اور زچگی کی سہولیات کو بھی جوڑا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق حکومت پہلے دوسرے بچے پر ۲۵ ہزار روپے دینے پر غور کر رہی تھی، لیکن بعد میں اسے بڑھا کر تیسرے اور چوتھے بچے تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ آندھرا پردیش کے وزیرِ صحت ستیہ کمار یادو نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت اب “تیسرے بچے اور اس سے آگے” کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔
آخر گرتی آبادی خوف کا سبب کیوں بن رہی ہے؟
ماہرین کے مطابق آندھرا پردیش، تمل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک جیسی کئی جنوبی ہند کی ریاستوں میں کل شرحِ پیدائش تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ شرح ۲ء۱ سمجھی جاتی ہے، لیکن جنوبی ہند کی کئی ریاستوں میں یہ اس سے نیچے پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں معمر آبادی میں اضافہ ہوگا جبکہ کام کرنے والی نوجوان آبادی کم ہو سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان اور جنوبی کوریا پہلے ہی اس بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ نائیڈو نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت کو ان ممالک کی “گرتی آبادی والی غلطی” دہرانے سے بچنا چاہیے۔
کیا اس کے پیچھے سیاسی حساب بھی ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس پوری بحث کے پیچھے صرف سماجی تشویش نہیں بلکہ سیاسی حساب کتاب بھی شامل ہے۔ جنوبی ہند کے کئی رہنما طویل عرصے سے یہ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ مستقبل میں آبادی کی بنیاد پر ہونے والی پارلیمانی نشستوں کی نئی تقسیم سے جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے، کیونکہ شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ایسے میں جنوبی ہند کی بعض ریاستیں اب کم ہوتی آبادی کو سیاسی نمائندگی اور معاشی حصے کے لیے خطرہ سمجھنے لگی ہیں۔
تاہم اس اعلان کے بعد اپوزیشن اور سماجی کارکنوں نے کئی سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے بڑھتے اخراجات کے دور میں صرف ۳۰ یا ۴۰ ہزار روپے دے کر لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینا عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت واقعی آبادی میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے خواتین کی سلامتی، روزگار، زچگی کی چھٹی، سرکاری اسکولوں کے معیار اور صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ صرف نقد امداد مستقل حل نہیں بن سکتی۔
بھارت کی آبادیاتی سیاست میں نیا موڑ
ایک وقت تھا جب بھارت میں “ہم دو، ہمارے دو” جیسے نعرے سرکاری پالیسی کا حصہ تھے، لیکن اب ملک کے بعض حصوں میں صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ آندھرا پردیش کی یہ پہل اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ آنے والے برسوں میں بھارت میں “آبادی پر قابو” کی جگہ “آبادی کے توازن” کی سیاست ابھر سکتی ہے۔
فی الحال، چندرابابو نائیڈو کا یہ اعلان صرف ایک سرکاری اسکیم نہیں بلکہ بھارت کی بدلتی آبادیاتی سوچ، معاشی خدشات اور سیاسی حکمتِ عملی کا ایک بڑا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔