“اب اضلاع پر سیکریٹریٹ کی سیدھی نظر”: بہار میں انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیمِ نو، 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو اضلاع کی کمان

بہار حکومت نے انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ضلعی سطح پر جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا انتظامی ڈھانچہ نافذ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمرت چودھری کی قیادت والی حکومت نے ریاست کے 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو مختلف اضلاع کا انچارج سیکریٹری مقرر کیا ہے۔ کابینہ سکریٹریٹ محکمہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب ایڈیشنل چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور سیکریٹری سطح کے افسران براہِ راست اضلاع کی انتظامی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔

سیاسی حلقوں اور انتظامی ماہرین کے درمیان اس فیصلے کو بہار کی بیوروکریسی میں “ڈبل مانیٹرنگ ماڈل” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل حکومت وزراء کو اضلاع کا انچارج بنا چکی ہے، جبکہ اب سکریٹریٹ سطح کے سینئر افسران کو بھی براہِ راست اضلاع سے جوڑ دیا گیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل حکومت ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور انتظامی مشینری کو مزید فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ انتظامی تجربہ کیوں ضروری سمجھا گیا؟

بہار میں طویل عرصے سے ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری، فائلوں میں تاخیر، محکموں کے درمیان تال میل کی کمی، بدعنوانی اور زمینی سطح پر منصوبوں کے کمزور نفاذ پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ کئی اضلاع میں سڑک، صحت، تعلیم، جل نل یوجنا، رہائشی اسکیموں، آنگن واڑی اور دیہی ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل نہیں ہو پا رہے تھے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ جب سکریٹریٹ میں بیٹھے سینئر افسران براہِ راست اضلاع کی نگرانی کریں گے تو منصوبوں کے جائزے کی رفتار بڑھے گی اور ضلع مجسٹریٹ سمیت مقامی انتظامیہ کی جوابدہی مضبوط ہوگی۔ انچارج سیکریٹریوں کو وقتاً فوقتاً اضلاع کا دورہ کرنے، جائزہ میٹنگ منعقد کرنے اور حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

پٹنہ سے سیمانچل تک انتظامی نگرانی کا نیا نیٹ ورک

دارالحکومت پٹنہ کی ذمہ داری ونئے کمار کو دی گئی ہے۔ سیاسی طور پر اہم نالندہ ضلع کی نگرانی روی کمار روی کو سونپی گئی ہے۔ سمستی پور میں پرنو کمار، دربھنگہ میں راجیش کمار اور مظفرپور میں چندر شیکھر سنگھ انچارج سیکریٹری مقرر کیے گئے ہیں۔

بھاگلپور کی ذمہ داری دیپک آنند جبکہ سہرسہ کی ذمہ داری ونود سنگھ گنجیال کو دی گئی ہے۔ حکومت نے سیمانچل اور شمالی بہار کے حساس اضلاع میں بھی تجربہ کار افسران کی تقرری کر کے خصوصی توجہ کا اشارہ دیا ہے۔

خواتین افسران کو بھی بڑی ذمہ داریاں

اس انتظامی ردوبدل میں خواتین افسران کو بھی اہم اضلاع کی کمان سونپی گئی ہے۔ ویشالی کی انچارج رچنا پاٹل، ارول-جہان آباد کی ڈاکٹر آشما جین، سپول کی سیما ترپاٹھی اور شیخ پورہ-لکھی سرائے کی کنول تنوج مقرر کی گئی ہیں۔

انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین افسران کی تقرری حکومت کی “شمولیتی انتظامیہ” کی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر تعلیم، خواتین کی سلامتی، غذائیت اور صحت سے متعلق منصوبوں کی نگرانی میں اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

سیمانچل اور سیلاب سے متاثر اضلاع پر خصوصی نظر

پورنیہ کی ذمہ داری کارتکیہ دھننجے، کٹیہار کی راج کمار اور کشن گنج کی انیمیش کمار کو دی گئی ہے۔ ارریہ میں محمد سہیل انچارج سیکریٹری مقرر کیے گئے ہیں۔

ان اضلاع کو بہار کے سب سے پسماندہ اور چیلنجنگ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سیلاب، ہجرت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے مسائل مسلسل برقرار ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سینئر سطح کی نگرانی سے منصوبوں کے نفاذ میں بہتری آئے۔

چمپارن سے مگدھ تک نئی انتظامی ساخت

مشرقی چمپارن کے انچارج تیرشت کپل اشوک اور مغربی چمپارن کے انچارج ابھیے کمار سنگھ ہوں گے۔ گیا ضلع کی ذمہ داری رابرٹ ایل چونگتھو کو دی گئی ہے، جبکہ اورنگ آباد میں منوج کمار، نوادہ میں ہمانشو شرما اور جموئی میں کوشل کشور انچارج سیکریٹری مقرر کیے گئے ہیں۔

مدھے پورہ-کھگڑیا کی ذمہ داری راہل کمار، بانکا کی نیلیش رام چندر دیورے اور شیوہر-سیتامڑھی کی ذمہ داری راجیو روشن کو دی گئی ہے۔ بھوجپور، بکسر، کیمور، روہتاس، مدھوبنی اور سارن جیسے اضلاع میں بھی سینئر افسران کی تعیناتی کی گئی ہے۔

انچارج وزیر + انچارج سیکریٹری” ماڈل سے کیا بدلے گا؟

حکومت اب اضلاع میں دوہری نگرانی کا نظام نافذ کر رہی ہے۔ ایک طرف انچارج وزراء سیاسی اور عوامی معاملات کا جائزہ لیں گے، جبکہ دوسری جانب انچارج سیکریٹری انتظامی اور تکنیکی امور کی نگرانی کریں گے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے منصوبوں کی پیش رفت کی رپورٹ براہِ راست وزیر اعلیٰ دفتر تک پہنچے گی اور اضلاع میں لاپروائی پر فوری کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم بعض سابق بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ اگر انچارج سیکریٹریوں اور ضلع مجسٹریٹوں کے درمیان بہتر تال میل نہ رہا تو انتظامی ٹکراؤ کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

انتخابی حکمت عملی یا انتظامی اصلاحات؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم صرف انتظامی اصلاحات نہیں بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔ بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل حکومت ترقیاتی کاموں کی رفتار دکھانا چاہتی ہے۔ دیہی سڑکوں، صحت مراکز، تعلیم، آبپاشی، بجلی اور روزگار سے متعلق اسکیموں کی پیش رفت کو براہِ راست عوام تک پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

حکومت یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب منصوبوں کی نگرانی صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اعلیٰ سطح سے زمینی سطح تک سخت مانیٹرنگ ہوگی۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس نئی انتظامی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اضلاع میں پہلے سے موجود انتظامی ڈھانچہ مؤثر ہوتا تو الگ سے انچارج سیکریٹری مقرر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے اسے “ضرورت سے زیادہ مرکزیت” قرار دیا ہے۔

تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام “ریزَلٹ بیسڈ گورننس” کی سمت ایک بڑا قدم ہے اور اس سے منصوبوں کے نفاذ میں شفافیت اور جوابدہی دونوں میں اضافہ ہوگا۔

بہار کی انتظامی مشینری میں یہ تبدیلی آنے والے مہینوں میں کتنا اثر دکھاتی ہے، اس پر اب پوری ریاست کی نظریں مرکوز رہیں گی۔

“اب اضلاع پر سیکریٹریٹ کی سیدھی نظر”: بہار میں انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیمِ نو، 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو اضلاع کی کمان

بہار حکومت نے انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ضلعی سطح پر جوابدہی کو