سیاسی

سیاسی
دربھنگہ میں سی پی آئی(ایم ایل) کا طاقت کا مظاہرہ، بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کی اپیل, “بلڈوزر راج اور کارپوریٹ قبضے” کے خلاف 16 تا 18 مئی ریاستی کانفرنس، تیجسوی یادو سمیت کئی رہنما ہوں گے شریک

بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال کے درمیان سی پی آئی(ایم ایل) نے ریاست میں بی جے پی قیادت والی حکومت کے خلاف وسیع عوامی مزاحمت

سیاسی
بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے سویندو ادھیکاری، بنگال کے پہلے بی جے پی وزیر اعلیٰ بنیں گے؛ ان کی قیادت میں بی.جے.پی نے 208 نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی، 15 سال بعد ترنمول کانگریس اقتدار سے باہر

مغربی بنگال کی سیاست میں 2026 کا اسمبلی انتخاب ایک تاریخی اقتدار کی تبدیلی کے طور پر درج ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی

سیاسی
تمل ناڈو: کانگریس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی دی باہر سے حمایت، وی.سی.کے کے ساتھ وجے کی ٹی.وی.کے نے اکثریت کا ہندسہ پار کیا، ڈی.ایم.کے–اے.آئی.اے.ڈی.ایم.کے کے دہائیوں پرانے غلبے کو سب سے بڑا چیلنج

تمل ناڈو کی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے درمیان اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی

سیاسی
تمل ناڈو کی سیاست میں سنیما کی 70 سالہ حکمرانی : انّا دورئی، کروناندھی، ایم جی آر، جے للیتا، اسٹالن، ادھیانِدھی سے وجے تک، کیسے فلمی پردے نے اقتدار کی سمت طے کی

اگر ہندوستان کی سیاست میں کسی ایک ریاست نے فلموں اور اقتدار کے رشتے کو سب سے گہرائی سے جیا ہے تو وہ تمل ناڈو

سیاسی
لکھنؤ میں ایس.ڈی.پی.آئی کا انتخابی طاقت کا مظاہرہ: قومی قیادت نے کارکنان میں بھری نئی توانائی، یوپی انتخابات کے لیے بوتھ سے میڈیا تک حکمتِ عملی پر غور و خوض

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں جمعرات کے روز سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنی

سیاسی
بہار میں این ڈی اے کابینہ توسیع: سمراٹ چودھری حکومت میں 32 نئے وزراء کی شمولیت، ای بی سی، دلت اور او بی سی توازن پر بڑا زور، نشانت کمار کی انٹری سے جانشینی کی سیاست تیز، پٹنہ کے گاندھی میدان میں وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں شاندار حلف برداری تقریب

بہار کی سیاست نے جمعرات کے روز ایک نیا موڑ اختیار کر لیا۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے پہلے

سیاسی
کیرالہ میں بائیں بازو کے محاذ کی شکست کے ساتھ بھارت میں کمیونسٹ سیاست اپنے سب سے کمزور دور میں داخل، پانچ دہائیوں بعد ملک میں کوئی بھی بائیں بازو کا وزیرِ اعلیٰ نہیں ہوگا۔

کیرالہ میں بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کی شکست کے ساتھ ہی بھارتی سیاست میں ایک تاریخی باب تقریباً اختتام کی طرف