مغربی بنگال کی سیاست میں 2026 کا اسمبلی انتخاب ایک تاریخی اقتدار کی تبدیلی کے طور پر درج ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پہلی بار ریاست میں واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ بی جے پی قانون ساز پارٹی نے سینئر لیڈر سویندو ادھیکاری کو اپنا قائد منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد ان کا مغربی بنگال کا پہلا بی جے پی وزیر اعلیٰ بننا تقریباً طے مانا جا رہا ہے۔
یہ وہی سویندو ادھیکاری ہیں جنہوں نے پہلے 2021 میں نندی گرام میں ممتا بنرجی کو شکست دی تھی اور اب 2026 میں بھوانی پور میں بھی انہیں ہرا کر بنگال کی سیاست کا سب سے بڑا چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ بھوانی پور سیٹ پر سویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو 15,105 ووٹوں سے شکست دی۔
کبھی ممتا کے قریبی، آج سب سے بڑے سیاسی حریف
سویندو ادھیکاری کا سیاسی سفر ترنمول کانگریس سے ہی شروع ہوا تھا۔ ان کے والد شیشیر ادھیکاری بنگال کی سیاست کا بڑا نام رہے ہیں، جبکہ ادھیکاری خاندان مشرقی مدناپور میں طویل عرصے سے اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
سویندو ادھیکاری نے 1990 کی دہائی میں کانگریس سے سیاست کا آغاز کیا، لیکن 1998 میں ممتا بنرجی کے ساتھ ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے۔ سنگور اور نندی گرام تحریکوں میں ان کے فعال کردار نے انہیں ریاستی سیاست میں مضبوط شناخت دلائی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نندی گرام تحریک نے جس طرح ممتا بنرجی کو اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، اسی طرح سویندو ادھیکاری کو بھی ترنمول کا طاقتور تنظیمی چہرہ بنانے میں مدد دی۔
تاہم وقت کے ساتھ پارٹی قیادت سے ان کے اختلافات بڑھنے لگے۔ خاص طور پر ابھیشیک بنرجی کے بڑھتے اثر و رسوخ کے بعد سویندو ادھیکاری اور ترنمول قیادت کے درمیان فاصلے کھل کر سامنے آنے لگے۔ آخرکار 2020 میں انہوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا۔
2021 کی نندی گرام لڑائی سے شروع ہوا بڑا سیاسی تصادم
2021 کے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی نے خود نندی گرام سے انتخاب لڑ کر سویندو ادھیکاری کو براہ راست چیلنج دیا تھا۔ یہ انتخاب بنگال کی سیاست کا سب سے زیادہ چرچا میں رہنے والا مقابلہ بن گیا تھا۔ نتیجے میں سویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو شکست دے کر بڑا سیاسی پیغام دیا، اگرچہ اس وقت ترنمول کانگریس حکومت بچانے میں کامیاب رہی تھی۔
اس کے بعد بھوانی پور ضمنی انتخاب میں ممتا بنرجی نے واپسی کی تھی، لیکن 2026 کے انتخابات میں بی جے پی نے اسی بھوانی پور کو ترنمول کے خلاف سب سے بڑا سیاسی محاذ بنا دیا۔
بھوانی پور کی شکست نے بدل دی بنگال کی سیاست
بھوانی پور سیٹ کو ممتا بنرجی کا سب سے محفوظ سیاسی قلعہ مانا جاتا رہا ہے۔ 2011 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے اسی سیٹ سے ضمنی انتخاب جیت کر اسمبلی میں داخلہ لیا تھا۔ 2016 اور 2021 میں بھی انہوں نے یہاں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
لیکن اس بار مقابلہ بالکل مختلف تھا۔ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی مرحلوں میں کبھی ممتا آگے رہیں تو کبھی سویندو ادھیکاری۔ آخری مرحلوں میں بی جے پی کو مسلسل برتری حاصل ہوئی اور آخرکار سویندو ادھیکاری نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بھوانی پور میں ممتا بنرجی کی شکست صرف ایک سیٹ کی ہار نہیں، بلکہ ریاست کی بدلتی ہوئی سیاسی سمت کا اشارہ ہے۔
بی جے پی کی تاریخی کامیابی
2021 میں صرف 77 نشستوں تک محدود رہنے والی بی جے پی نے اس بار 208 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ بی جے پی کی اس کامیابی کے پیچھے دیہی علاقوں میں توسیع، ہندو ووٹوں کا پولرائزیشن، ترنمول حکومت پر بدعنوانی کے الزامات اور سویندو ادھیکاری کی جارحانہ حکمت عملی کو اہم وجوہات مانا جا رہا ہے۔
بی جے پی رہنماؤں نے اسے “تبدیلی کا مینڈیٹ” قرار دیا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ممتا بنرجی نے نتائج آنے کے بعد الزام لگایا کہ انتخاب “لوٹ لیا گیا” اور کئی مقامات پر دباؤ اور تشدد کا ماحول بنایا گیا۔ تاہم بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
بنگال میں نئی سیاسی شروعات
سویندو ادھیکاری کے وزیر اعلیٰ بننے کے ساتھ ہی مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ بنگال کی پوری سیاسی ثقافت میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
اب نظریں اس بات پر رہیں گی کہ بی جے پی اپنی انتخابی کامیابی کو حکمرانی میں کس طرح تبدیل کرتی ہے اور سویندو ادھیکاری بنگال کی پیچیدہ سماجی و سیاسی چیلنجز سے کس طرح نمٹتے ہیں۔
Suvendu Adhikari, West Bengal Politics, Bengal Election 2026, Mamata Banerjee, BJP Bengal, TMC, Bhabanipur Election, Nandigram, Bengal CM, BJP Government in Bengal, West Bengal Assembly Election, Amit Shah, Abhishek Banerjee, Bengal Political News, BJP Victory Bengal, Mamata Defeat, Bengal BJP, Suvendu vs Mamata, Bengal Power Shift, Indian Politics, Kolkata News, TMC vs BJP, West Bengal CM, Bengali Politics, BJP Legislature Party, Insaaf Times