تمل ناڈو: کانگریس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی دی باہر سے حمایت، وی.سی.کے کے ساتھ وجے کی ٹی.وی.کے نے اکثریت کا ہندسہ پار کیا، ڈی.ایم.کے–اے.آئی.اے.ڈی.ایم.کے کے دہائیوں پرانے غلبے کو سب سے بڑا چیلنج

تمل ناڈو کی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے درمیان اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) نے بالآخر اکثریت کا ہندسہ حاصل کر لیا ہے۔ ودوتھلائی چروتھائگل کچھی (وی سی کے) اور دیگر اتحادی حمایت کے بعد ٹی وی کے کے پاس اب 118 اراکین اسمبلی کی حمایت موجود ہے، جو 234 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے درکار جادوئی تعداد سمجھی جاتی ہے۔

اس پیش رفت نے تمل ناڈو کی سیاست میں بڑا سیاسی انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ دہائیوں سے ریاست میں اقتدار دراوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے درمیان گردش کرتا رہا ہے، لیکن اس بار پہلی مرتبہ پوری قوت کے ساتھ انتخابی میدان میں آنے والی ٹی وی کے نے 108 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ ایک نشست خالی ہونے کے باعث اس کی مؤثر تعداد 107 مانی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے وجے کو اتحادی حمایت کی ضرورت پیش آئی۔

سب سے پہلے کانگریس نے اپنے پانچ اراکین اسمبلی کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد انڈین کمیونسٹ پارٹی اور انڈین کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) نے بھی وجے کو باہر سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں ودوتھلائی چروتھائگل کچھی نے بھی ٹی وی کے کے حق میں فیصلہ کیا، جس کے بعد مختلف سیاسی حمایتوں کے نتیجے میں ٹی وی کے نے اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا۔

موجودہ صورت حال کے مطابق ٹی وی کے کے 107 مؤثر اراکین، کانگریس کے 5، وی سی کے کے 2، سی پی آئی کے 2 اور سی پی آئی (ایم) کے 2 اراکین کی حمایت کے ساتھ وجے کی قیادت میں اتحاد نے اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہ اتحاد صرف اقتدار کا حساب نہیں بلکہ تمل ناڈو میں ایک نئے ’’سیکولر اور بی جے پی مخالف محاذ‘‘ کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

چنئی میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کی حمایت ’’فرقہ وارانہ قوتوں کو روکنے اور تمل ناڈو کے حقوق کے تحفظ‘‘ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ باہر سے حمایت جاری رکھیں گے، اور ریاستی حقوق و وفاقی ڈھانچے کے مسائل پر تعاون جاری رہے گا۔

اس پورے معاملے کے دوران ریاستی گورنر راجندر ارلیکر کا کردار بھی تنازع کا شکار رہا۔ وجے پہلے ہی حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر چکے تھے، تاہم گورنر نے ان سے 118 اراکین کی واضح حمایت کا خط طلب کیا تھا۔ اس پر کانگریس اور ٹی وی کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور گورنر پر ’’عوامی مینڈیٹ کو روکنے‘‘ کا الزام عائد کیا۔

اب اکثریت حاصل ہونے کے بعد توقع ہے کہ وجے جلد دوبارہ گورنر سے ملاقات کریں گے۔ سیاسی ذرائع کے مطابق حکومت سازی اور حلف برداری کی تیاریاں تیز ہو چکی ہیں۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو تمل ناڈو میں پہلی مرتبہ ایک ایسے اداکار کی قیادت میں حکومت قائم ہو سکتی ہے جس نے اپنی پہلی ہی انتخابی کوشش میں دراوڑ سیاست کے طویل عرصے سے قائم غلبے کو چیلنج کیا ہے۔

تمل ناڈو میں سنیما اور سیاست کا تعلق پرانا رہا ہے۔ سی این انّا دورائی، ایم کروناندھی، ایم جی رامچندرن اور جے جے للیتا جیسے رہنماؤں نے فلمی دنیا سے سیاست میں کامیابی حاصل کی۔ اب وجے کو اسی روایت کا نیا چہرہ سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں، شہری ووٹروں اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں میں وجے کی مقبولیت نے تمل ناڈو کی روایتی سیاست کو نئی سمت دے دی ہے۔ اب پوری ریاست کی نظریں اس بات پر ہیں کہ گورنر کب وجے کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں اور ٹی وی کے اپنی پہلی حکومت کی تشکیل کس طرح کرتا ہے۔

Tamil Nadu Politics, Vijay, TVK, Tamilaga Vettri Kazhagam, TVK Government, Tamil Nadu Assembly, Congress Support TVK, VCK, CPI, CPI(M), DMK, AIADMK, Tamil Politics 2026, Anti BJP Front, Secular Alliance Tamil Nadu, Governor Rajendra Arlekar, Chennai Politics, Coalition Government, Tamil Cinema Politics, Vijay CM, Tamil Nadu Government Formation, Insaaf Times