پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے تنظیم کے دو مبینہ فزیکل ایجوکیشن ٹرینرز، انشد بدرالدین اور عبدالقادر پُتّور کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بادی النظر میں یہ ثابت نہیں کر سکا کہ ملزمان کو ملنے والا معاوضہ “پروسیڈز آف کرائم” (جرم سے حاصل شدہ آمدنی) تھا، جیسا کہ انسدادِ منی لانڈرنگ قانون میں اس کی تعریف کی گئی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس پوروشیندر کمار کورَو کی یک رکنی بنچ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ ملزمان نے پاپولر فرنٹ کے لیے جسمانی تربیت فراہم کی اور اس کے عوض ادائیگی حاصل کی، اس رقم کو جرم سے حاصل شدہ آمدنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب تک بادی النظر میں یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ ادائیگی کسی ثابت شدہ شیڈولڈ جرم سے حاصل ہوئی ہے، تب تک اسے “پروسیڈز آف کرائم” نہیں کہا جا سکتا۔
مارچ 2024 میں گرفتار کیے گئے دونوں ملزمان کو ای ڈی نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کی تحقیقات کی بنیاد پر درج ای سی ای آر کے تحت گرفتار کیا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دونوں کے نام ای ڈی کی اصل استغاثہ شکایت میں شامل نہیں تھے، بلکہ انہیں پہلی مرتبہ پانچویں ضمنی استغاثہ شکایت میں ملزم بنایا گیا۔
ای ڈی کا الزام تھا کہ دونوں ملزمان پاپولر فرنٹ کے فزیکل ایجوکیشن ٹرینر تھے اور جسمانی تربیت کی آڑ میں تنظیم کے کارکنوں کو تلوار، درانتی اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دیتے تھے۔ ایجنسی کا دعویٰ تھا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد مبینہ طور پر تنظیم کی غیر قانونی اور پُرتشدد سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔
تاہم، ہائی کورٹ نے کہا کہ ان الزامات کا حتمی جائزہ مقدمے کی سماعت کے دوران لیا جائے گا۔ موجودہ مرحلے پر دستیاب مواد کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملزمان کو ملنے والا معاوضہ کسی ثابت شدہ شیڈولڈ جرم سے حاصل ہوا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ صرف یہ حقیقت کہ ادائیگی براہِ راست ملزمان کے بینک کھاتوں میں گئی، اسے خود بخود “پروسیڈز آف کرائم” نہیں بنا دیتی۔
بنچ نے کہا کہ دونوں ملزمان بنیادی شیڈولڈ جرم کے بھی ملزم نہیں ہیں۔ اس لیے ای ڈی کے لیے ضروری تھا کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ متعلقہ رقم کسی ثابت شدہ شیڈولڈ جرم سے حاصل ہوئی تھی، جو وہ بادی النظر میں ثابت نہیں کر سکی۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں پرویز احمد مقدمے کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کسی مبینہ جرم میں استعمال ہونے والی رقم کو، مناسب قانونی بنیاد کے بغیر، “پروسیڈز آف کرائم” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا کرنا “گھوڑے سے پہلے گاڑی رکھنے” کے مترادف ہوگا۔
عدالت نے اس بات کو بھی مدِنظر رکھا کہ دونوں ملزمان دو سال تین ماہ سے زائد عرصے سے عدالتی حراست میں ہیں، اب تک ان پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے اور قریب المستقبل میں مقدمے کے اختتام کے کوئی آثار بھی نظر نہیں آتے۔ ان حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے عدالت نے دونوں ملزمان کو ضمانت دے دی۔