بہار کی سیاست میں ایک اہم آواز کے طور پر پہچان رکھنے والے سابق وزیر منصور عالم کے انتقال پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی اعلیٰ قیادت سمیت پوری پارٹی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں نے اسے ریاست کی سیاست اور سوشلسٹ فکر کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔آر جے ڈی کے قومی صدر لالو پرساد، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، قائد حزبِ اختلاف تیجسوی پرساد یادو، رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے مشترکہ طور پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصور عالم کا انتقال بہار کی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصور عالم ہمیشہ غریبوں، محروموں اور عام عوام کی آواز بن کر کھڑے رہے اور سیمانچل علاقے کی ترقی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔آر جے ڈی رہنماؤں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ منصور عالم کی زندگی سوشلسٹ اقدار کے لیے وقف رہی اور انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں عوامی مفاد کے مسائل کو ترجیح دی۔ ان کے انتقال سے سوشلسٹ تحریک کو بھی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔پارٹی کے ریاستی صدر منگنی لال منڈل، قومی نائب صدر جگدانند سنگھ، عبدالباری صدیقی، کانتی سنگھ، جے پرکاش نارائن یادو، منوج کمار جھا سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کی۔آر جے ڈی رہنماؤں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم منصور عالم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا کرے۔صوبائی ترجمان اعجاز احمد کی جانب سے جاری کردہ اس تعزیتی بیان میں کہا گیا ہے کہ منصور عالم کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سابق وزیر منصور عالم کے انتقال پر غم کی لہر، لالو پرساد، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سمیت آر جے.ڈی رہنماؤں نے کہا ”بہار کی سیاست اور سوشلسٹ تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان“
بہار کی سیاست میں ایک بڑا سیاسی موڑ سامنے آیا ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ (جے
بہار میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ریاست کی سیاست میں سرگرمیاں تیزی سے
خواتین کے ریزرویشن کے مسئلے پر بہار کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی
بہار کی سیاست میں ایک اہم آواز کے طور پر پہچان رکھنے والے سابق وزیر
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران اور امریکہ
نَاسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز سے جڑے حالیہ معاملے کی میڈیا کوریج کو لے کر
بہار کانگریس کے اندر بڑھتا ہوا عدم اطمینان اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔