مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے درمیان شام نے ایک بار پھر اسرائیل کے خلاف اپنا سخت مؤقف واضح کر دیا ہے۔ صدر احمد الشرع کی حکومت نے نئے کسٹم قوانین کے ذریعے اسرائیلی سامان اور اسرائیلی شہریوں پر عائد پابندیوں کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف دمشق اور تل ابیب کے درمیان محدود سفارتی رابطوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف شام اپنی عسکری اور نظریاتی تیاریوں کو بھی تیز کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
شام کی جانب سے جاری کیے گئے نئے کسٹم قانون کی دفعہ 112 کے تحت اب کسی بھی ایسے سامان کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کا تعلق اسرائیل یا اسرائیلی کمپنیوں سے ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی شہریوں کے شام میں داخلے پر بھی پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ شامی انتظامیہ نے اس اقدام کو قومی سلامتی، عوامی نظم و نسق اور “اسرائیل بائیکاٹ قانون” کا حصہ قرار دیا ہے۔
اگرچہ مغربی میڈیا اس فیصلے کو شام کی “داخلی سیاسی مجبوری” یا “عوامی حمایت حاصل کرنے کی حکمتِ عملی” کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن علاقائی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے پیچھے صرف اندرونی دباؤ نہیں بلکہ موجودہ شامی اقتدار کے نظریاتی اور تزویراتی تصورات بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ شامی اقتدار کے اندر ایسے کئی بااثر عناصر موجود ہیں جن کا تعلق ماضی میں اسلامی سیاسی اور مسلح تنظیموں سے رہا ہے۔ خانہ جنگی کے برسوں کے دوران مختلف اسلامی دھڑوں، باغی تنظیموں اور علاقائی نیٹ ورکس سے وابستہ کئی افراد اب انتظامی، عسکری اور سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف کو صرف سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق دمشق اس وقت دو متوازی حکمتِ عملیوں پر کام کر رہا ہے۔ پہلی یہ کہ سفارتی سطح پر اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں، خصوصاً گولان کی پہاڑیوں کے مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے، اور دوسری یہ کہ ملک کی عسکری صلاحیت، سکیورٹی نظام اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق شامی فوج کی ازسرِ نو تنظیم، فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، جدید تربیت اور ہتھیاروں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اسرائیل مخالف عوامی جذبات کو بھی منظم انداز میں تقویت دے رہی ہے تاکہ فوج اور عوام کے درمیان “مزاحمت کے جذبے” کو زندہ رکھا جا سکے۔
اسی وسیع حکمتِ عملی کے تحت اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت شکل دی گئی ہے۔ نئے قانون کا مقصد صرف تجارتی پابندی نہیں بلکہ شام کے اندر کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ اسرائیلی معاشی اثر و رسوخ کا خاتمہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اب ایسی کسی بھی کمپنی کی مصنوعات کو اجازت نہیں دی جائے گی جس کا تعلق اسرائیل یا اسرائیلی سرمایہ سے ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے درمیان محدود مذاکرات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب تک ان مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی۔ شامی قیادت مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ اسرائیل شامی علاقوں میں اپنی عسکری موجودگی ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شام اس وقت براہِ راست جنگی صورتحال سے بچتے ہوئے “طویل المدتی تزویراتی تیاری” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں سفارتی دباؤ، عسکری تعمیرِ نو، نظریاتی صف بندی اور معاشی بائیکاٹ—چاروں عناصر کو بیک وقت استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایسے میں نیا قانون صرف ایک تجارتی حکم نامہ نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں شام اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی مزید گہری ہو سکتی ہے۔