مالی میں منظم ملٹنٹ حملوں سے اقتدار ہل گیا: وزیرِ دفاع جنرل سادیو کامارا ہلاک، کاتی کے فوجی گڑھ پر خودکش حملہ؛ باماکو، گاؤ، کِدال اور سیوارے میں کئی مقامات نشانے پر، جینم–ایف ایل اے اتحاد سے سکیورٹی بحران میں اضافہ

مغربی افریقی ملک مالی میں ہونے والے وسیع اور منظم ملٹنٹ حملوں نے ملک کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ مالی کے وزیرِ دفاع اور فوجی حکومت کے اہم ستون سادیو کامارا ان حملوں میں ہلاک ہو گئے، جس سے ملک کے سکیورٹی نظام اور اقتدار کے ڈھانچے کو گہرا دھچکا لگا ہے۔

کاتی میں ہائی پروفائل ہدف پر حملہ

حملوں کا آغاز ہفتہ کے روز اس وقت ہوا جب دارالحکومت باماکو سے تقریباً 15 کلومیٹر دور واقع فوجی قصبے کاتی میں جنرل کامارا کی رہائش گاہ کو خودکش کار بم سے نشانہ بنایا گیا۔ کاتی کو مالی کی فوجی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے—یہیں سے 2020 اور 2021 کی بغاوتوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد ہوا تھا۔ سخت سکیورٹی کے باوجود حملہ آوروں کا وہاں تک پہنچ جانا سکیورٹی نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، دھماکے کے بعد شدید فائرنگ ہوئی اور کئی گھنٹوں تک سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان جھڑپ جاری رہی۔ حملے میں جنرل کامارا شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق ہو گئی۔

کئی شہروں میں بیک وقت حملے

یہ حملہ صرف ایک مقام تک محدود نہیں تھا۔ ملٹنٹ گروہوں نے بیک وقت کئی اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا۔ باماکو کے علاوہ شمالی شہروں گاؤ اور کِدال اور وسطی مالی کے شہر سیوارے میں بھی فوجی اڈوں اور سرکاری تنصیبات پر حملے کیے گئے۔

کِدال اور گاؤ، جو طویل عرصے سے بغاوت اور عدم استحکام کے مراکز رہے ہیں، وہاں اتوار تک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ ایک طویل المدتی اور منظم آپریشن کا حصہ ہے۔

خطرناک اتحاد کا اشارہ

ان حملوں میں القاعدہ سے منسلک تنظیم جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین اور توا ریگ علیحدگی پسند گروہ آزواد لبریشن فرنٹ کے ممکنہ مشترکہ کردار کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

یہ اتحاد خاص طور پر تشویش ناک ہے کیونکہ دونوں گروہ پہلے مختلف مقاصد کے لیے برسرِ پیکار رہے ہیں—ایک کا مقصد اسلامی نظام کا قیام جبکہ دوسرے کا ہدف شمالی مالی میں آزاد ازواد ریاست قائم کرنا ہے۔ اب ان کا متحد ہونا مالی حکومت کے لیے بڑا سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔

اقتدار کے توازن پر اثر

جنرل کامارا مالی کی فوجی حکومت کے سب سے بااثر چہروں میں شامل تھے۔ 2020 اور 2021 کی فوجی بغاوتوں کے بعد قائم ہونے والی حکومت میں ان کا کردار انتہائی اہم رہا۔ انہیں عبوری صدر اسیمی گوئیتا کا قریبی ساتھی اور ممکنہ جانشین بھی سمجھا جاتا تھا۔

حملے کے وقت گوئیتا بھی کاتی میں موجود تھے، تاہم انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور صورتحال پر قابو رکھے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ردِ عمل

ان حملوں کی افریقی یونین،تنظیمِ تعاونِ اسلامی اور امریکی بیورو برائے افریقی امور سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے شدید مذمت کی ہے۔ عالمی برادری نے مالی میں امن و استحکام کی بحالی کی اپیل کی ہے۔

آگے کا چیلنج

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ریاستی نظام کو غیر مستحکم کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں شمالی اور وسطی مالی میں مزید تشدد اور علاقائی کنٹرول کے لیے جھڑپوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

وزیرِ دفاع کی موت اور ملک بھر میں پھیلے یہ منظم حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مالی ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ تنازع کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ملٹنٹ گروہوں کے درمیان بڑھتا ہوا اتحاد اور ریاست کی کمزور ہوتی گرفت، پورے ساحل خطے کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔

بیتیا میں خاتون سپاہی کی مشکوک موت: حاملہ بیوی کو گلا دبا کر قتل کرنے کا الزام، شوہر گرفتار

بہار کے مغربی چمپارن ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے،