مفت رہائش، کھانا، یونیفارم، کتابیں اور جدید لیبارٹریوں کی سہولت کے ساتھ اقلیتی طلبہ کے لیے بڑا موقع: حکومتِ بہار کی رہائشی اسکول اسکیم کے تحت 17 مئی کو داخلہ امتحان، یکم مئی تک درخواست کی آخری تاریخ

حکومتِ بہار کے محکمۂ اقلیتی فلاح کے تحت اقلیتی برادری کے طلبہ کے لیے ایک اہم تعلیمی اقدام کے طور پر “بہار اسٹیٹ اقلیتی رہائشی اسکول مشترکہ داخلہ امتحان-2026” کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی سال 2026-27 کے لیے جاری اس نوٹیفکیشن نے ریاست کے ہزاروں طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے درمیان امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔

یہ اسکیم خاص طور پر اُن باصلاحیت مگر معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے تیار کی گئی ہے، جو معیاری تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ریاستی حکومت کا مقصد ہے کہ اقلیتی برادری کے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول، جدید سہولیات اور مسابقتی فضا فراہم کی جائے تاکہ وہ قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کر سکیں۔

داخلہ عمل کے تحت درخواستیں یکم اپریل 2026 سے شروع ہو چکی ہیں اور خواہشمند طلبہ یکم مئی 2026 تک درخواست دے سکتے ہیں۔ داخلہ امتحان 17 مئی کو منعقد ہوگا، جبکہ نتائج 28 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔ کامیاب طلبہ کا داخلہ یکم جون سے 6 جون کے درمیان ہوگا اور نیا تعلیمی سیشن 8 جون 2026 سے شروع ہوگا۔

اس اسکیم کے تحت بہار کی نوٹیفائیڈ اقلیتی برادریوں—مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور پارسی—کے طلبہ درخواست دے سکتے ہیں۔ جماعت 9 میں داخلہ کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 16 سال اور جماعت 11 کے لیے 18 سال مقرر کی گئی ہے، تاکہ طلبہ کو بروقت معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔

ریاست میں فی الحال نالندہ، کیمور، دربھنگہ، جموئی اور مغربی چمپارن اضلاع میں مکمل طور پر چلنے والے اقلیتی رہائشی اسکول موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سیوان، پورنیہ، ارریہ، گیا اور سپول اضلاع کے طلبہ کے لیے کیمپ اسکولوں کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ان اسکولوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں طلبہ کو مکمل طور پر مفت رہائشی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ رہائش کے لیے ہاسٹل، معیاری غذا، یونیفارم، کتابیں، ادویات اور باقاعدہ صحت کی جانچ جیسی سہولیات دی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید لیبارٹریاں، کھیل کود اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی ہمہ جہت ترقی پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔

تعلیم کے معیار کو بلند رکھنے کی بھی پوری کوشش کی گئی ہے۔ جماعت 11 میں طلبہ کو سائنس اور آرٹس جیسے مضامین کے اختیارات دیے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی دلچسپی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے مطابق مضامین کا انتخاب کر سکیں۔ اس طرح یہ نظام طلبہ کو انجینئرنگ، میڈیکل، انتظامی خدمات اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اس اسکیم میں سماجی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ریزرویشن کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ کل نشستوں میں 50 فیصد لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں، جبکہ 75 فیصد نشستیں دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ دیگر ریزرویشن ریاستی حکومت کی موجودہ پالیسی کے مطابق نافذ ہوں گے۔

درخواست کے عمل کو آسان بنانے کے لیے آن لائن اور آف لائن دونوں سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ طلبہ محکمہ کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ ضلعی اقلیتی فلاح دفتر جا کر آف لائن درخواست بھی جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پٹنہ، گیا، پورنیہ اور کٹیہار کے ڈویژنل دفاتر میں ہیلپ لائن کی سہولت بھی موجود ہے۔

ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ یہ اسکیم صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بااختیاری کا ایک مضبوط ذریعہ بھی ہے۔ اس سے نہ صرف ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو بھی مسابقتی ماحول میسر آئے گا۔

مجموعی طور پر، حکومتِ بہار کا یہ اقدام اقلیتی برادری کے طلبہ کے لیے ایک سنہری موقع بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ نہ صرف ان کے تعلیمی مستقبل کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ انہیں خود کفیل اور بااختیار بنانے کی سمت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

بہار میں ذہنی صحت پر ہائی کورٹ سخت: حکومت سے جواب طلب، 8 مئی تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت

بہار میں ذہنی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے معاملات اور سڑکوں پر بے سہارا گھومتے مریضوں