تقریباً تین دہائی پرانے مشہور قتل کیس میں بہار کی سیاست اور جرائم کی دنیا کی معروف شخصیت سورج بھان سنگھ کو بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ بیگوسرائے کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-دوئم کی عدالت نے ثبوتوں کے فقدان کی بنیاد پر سابق رکنِ پارلیمان سمیت شریک ملزم اجیت کمار سنگھ کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ 30 سال سے زیرِ سماعت ایک ہائی پروفائل مقدمہ کا اختتام ہو گیا، تاہم اس کے ساتھ کئی نئے سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔
عدالت کا واضح مؤقف: “ثبوت نہیں تو سزا نہیں”
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج برجیش کمار سنگھ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ (پراسیکیوشن) الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ عدالت نے گواہوں کی گواہی اور دستیاب دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الزامات شک و شبہ سے بالاتر ثابت نہیں ہو سکے۔
1996 کا سنسنی خیز قتل کیس
یہ معاملہ 29 جولائی 1996 کا ہے، جب بیگوسرائے کے بیہٹ تھانہ علاقے کے ابراہیم پور ٹولہ میں دن دہاڑے رنجیت سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے اس وقت پورے ضلع میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ درج ایف آئی آر میں سورج بھان سنگھ سمیت کئی افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا تھا۔
گواہ سب سے کمزور کڑی ثابت ہوئے
استغاثہ نے مجموعی طور پر 7 گواہ پیش کیے، تاہم ان میں سے 4 اہم گواہ عدالت میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے اور انہیں منحرف گواہ قرار دیا گیا۔ گواہوں کے بیانات میں تضاد اور ان کی ساکھ پر سوالات نے کیس کو کمزور کر دیا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے پورے مقدمے کا رخ بدل دیا۔
دفاعی فریق کے مضبوط دلائل
سورج بھان سنگھ کی جانب سے سینئر وکیل محمد منصور عالم نے عدالت میں مؤثر پیروی کی۔ انہوں نے گواہوں کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ عدالت نے ان دلائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آخرکار تمام ملزمان کو بری کر دیا۔
عدالتی عمل پر نئی بحث
یہ فیصلہ جہاں ایک طرف ملزمان کے لیے ریلیف کا باعث بنا ہے، وہیں عدالتی عمل کی سست روی اور تفتیش کے معیار پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ 30 سال تک چلنے والے اس مقدمے نے یہ ظاہر کیا کہ کمزور تفتیش اور ناقص شواہد کس طرح ایک بڑے کیس کو بھی انجام تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں ہلچل
بیگوسرائے اور آس پاس کے سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کے بعد 90 کی دہائی کے مجرمانہ و سیاسی واقعات پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ یہ کیس ایک بار پھر اس دور کی یاد دلاتا ہے جب سیاست اور جرائم کے تعلقات پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے تھے۔