فجر سے قبل امام کی حاضر دماغی نے سات جانیں بچائیں، مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے دی گئی مدد کی پکار

آسام کے ضلع شری بھومی میں منگل کی علی الصبح ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ قومی شاہراہ پر تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک کار بےقابو ہو کر سڑک سے پھسلتے ہوئے ایک تالاب میں جا گری، اس وقت گاڑی میں موجود تمام مسافر گہری نیند میں تھے اور گاڑی آہستہ آہستہ پانی میں ڈوبنے لگی۔ لیکن قریبی مسجد کے امام کی فوری اور دانشمندانہ کارروائی نے سات قیمتی جانیں بچا لیں۔

واقعہ فجر کی اذان سے کچھ پہلے کا ہے۔ حادثے کی آواز قریبی جامع مسجد کے امام مولانا عبدالباسط نے سنی۔ انہوں نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے فوراً مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے گاؤں والوں سے مدد کی اپیل کی۔

مولانا نے مائیک پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک گاڑی تالاب میں گر گئی ہے اور تمام لوگوں سے فوری موقع پر پہنچنے کی درخواست کی۔ اس اعلان کے بعد گاؤں کے لوگ فوراً جمع ہوئے اور موقع کی جانب دوڑ پڑے۔

مقامی لوگوں نے مل کر گاڑی کو پانی سے نکالنے کی کوشش کی اور چند منٹوں کے اندر تمام سات افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ اس وقت گاڑی مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکی تھی اور بند کھڑکیوں کی وجہ سے مسافروں کی حالت تشویشناک ہو رہی تھی۔

مولانا عبدالباسط نے بتایا “میں نے تالاب میں کار کی لائٹ جلتی ہوئی دیکھی تو سمجھ گیا کہ ایک لمحہ بھی ضائع کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، اسی لیے فوراً لاؤڈ اسپیکر سے مدد مانگی۔”

انہوں نے مزید کہا “یہ انسانیت کا معاملہ تھا۔ اُس وقت نہ مذہب ذہن میں آیا اور نہ شناخت، بس جانیں بچانا اہم تھا۔”

امام کی فوری کارروائی اور دیہاتیوں کی بروقت مدد کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانیت، مذہب اور سرحدوں سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔

مالے کنونشن میں تنظیمی توسیع کا بڑا فیصلہ، کنال ایک بار پھر ریاستی سیکریٹری منتخب؛ “بلڈوزر راج” کے خلاف تیز تر جدوجہد کا اعلان

بھاکپا-مالے کا بارہواں بہار ریاستی کنونشن تین دنوں تک جاری وسیع سیاسی بحث، تنظیمی جائزہ

“اب اضلاع پر سیکریٹریٹ کی سیدھی نظر”: بہار میں انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیمِ نو، 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو اضلاع کی کمان

بہار حکومت نے انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ضلعی سطح پر جوابدہی کو