بہار میں سرکاری بھرتی امتحانات کی شفافیت ایک بار پھر بڑے سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ بہار پبلک سروس کمیشن نے اسسٹنٹ ایجوکیشن ڈیولپمنٹ آفیسر اور اسسٹنٹ پبلک سینیٹیشن اینڈ ویسٹ مینجمنٹ آفیسر بھرتی امتحانات کو منسوخ کر دیا ہے۔ کمیشن نے یہ فیصلہ امتحانی مراکز پر بلوٹوتھ ڈیوائس، الیکٹرانک نیٹ ورک، منظم بدعنوانی اور مبینہ سالور گینگ کی سرگرمیوں کے سامنے آنے کے بعد لیا ہے۔
کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق، اشتہار نمبر ۸۷/۲۰۲۵ کے تحت ۱۴ اپریل سے ۲۱ اپریل ۲۰۲۶ تک منعقد ہونے والے اسسٹنٹ ایجوکیشن ڈیولپمنٹ آفیسر تحریری (معروضی) مقابلہ جاتی امتحان کی تمام نو شفٹیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اشتہار نمبر ۱۰۸/۲۰۲۵ کے تحت ۲۳ اپریل ۲۰۲۶ کو منعقد اسسٹنٹ پبلک سینیٹیشن اینڈ ویسٹ مینجمنٹ آفیسر تحریری امتحان بھی رد کر دیا گیا ہے۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اب تک سوالیہ پرچہ لیک یا وائرل ہونے کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ملا ہے، لیکن مختلف اضلاع میں درج ابتدائی رپورٹیں، سوشل میڈیا پر گردش کرتی اطلاعات اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹوں سے یہ اشارہ ملا ہے کہ امتحان کی شفافیت کو متاثر کرنے کی “منظم کوشش” کی گئی۔
۳۲ امیدواروں پر پابندی، کئی اضلاع میں مقدمات درج
کمیشن کے مطابق امتحان کے دوران ضلعی انتظامیہ کی چوکسی کے باعث کئی مراکز پر بلوٹوتھ اور دیگر الیکٹرانک آلات کے ذریعے نقل کرانے کی کوشش پکڑی گئی۔ کمیشن نے ۳۲ امیدواروں کو آئندہ امتحانات میں شرکت سے پابند کر دیا ہے۔
خبروں کے مطابق نالندہ، گیا، بیگوسرائے، شیخ پورہ، مونگیر اور پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جانچ ایجنسیاں اس بات کی تفتیش کر رہی ہیں کہ آیا کوئی منظم گروہ تکنیکی ذرائع کے ذریعے امیدواروں تک جوابات پہنچا رہا تھا۔
’پرچہ لیک نہیں، پھر امتحان منسوخ کیوں؟‘
یہی سوال اب لاکھوں امیدواروں کے درمیان سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پرچہ لیک کا ثبوت نہیں ملا، لیکن “امتحان کی شفافیت متاثر کرنے کی کوشش” خود ایک سنگین معاملہ ہے۔ کمیشن کے مطابق ذہین امیدواروں کے وسیع تر مفاد اور شفاف امتحانی نظام برقرار رکھنے کے لیے امتحان منسوخ کرنا ضروری تھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کمیشن اس بار کسی بھی قسم کا خطرہ مول لینے کے حق میں نہیں ہے۔ سال ۲۰۲۲ میں ۶۷ ویں ابتدائی امتحان بھی پرچہ لیک تنازع کے بعد منسوخ کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد اساتذہ بھرتی امتحانات سمیت کئی امتحانات بھی تنازعات میں گھرے رہے۔
ہائی ٹیک نقل کا نیا ماڈل؟
جانچ ایجنسیوں کے مطابق اس بار روایتی نقل کے بجائے “ہائی ٹیک ماڈیول” استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔ بلوٹوتھ ایئر ڈیوائس، مائیکرو کمیونیکیشن آلات اور باہر بیٹھے حل کار نیٹ ورک کے ذریعے امیدواروں تک جوابات پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
خبروں کے مطابق بعض امیدواروں کے پاس سے انتہائی چھوٹے الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے ہیں، جنہیں عام تلاشی میں پکڑنا مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مراکز پر اضافی تلاشی اور ڈیجیٹل اسکیننگ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
لاکھوں طلبہ میں ناراضگی
یہ بھرتی بہار کی اہم بھرتیوں میں شمار کی جا رہی تھی۔ تقریباً ۹۳۵ آسامیوں کے لیے لاکھوں نوجوانوں نے درخواست دی تھی۔ امتحان پہلے جنوری ۲۰۲۶ میں ہونا تھا، جسے بعد میں اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔ اب امتحان منسوخ ہونے سے امیدواروں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی طلبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر پرچہ لیک نہیں ہوا تھا تو پورا امتحان کیوں منسوخ کیا گیا؟ جبکہ بڑی تعداد میں امیدواروں نے کمیشن کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ “چند لوگوں کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام نہیں ہونے دینا چاہیے۔”
کوچنگ اور مافیا نیٹ ورک پر بھی سوال
گزشتہ چند برسوں میں بہار کے مقابلہ جاتی امتحانات کے ارد گرد کوچنگ، حل کار گروہ اور تکنیکی نقل نیٹ ورک کا اثر مسلسل بڑھتا دکھائی دیا ہے۔ کمیشن پہلے بھی فرضی دعوؤں اور امتحانی طریقۂ کار کے حوالے سے بعض کوچنگ اداروں کو انتباہ دے چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک امتحانی مراکز پر تکنیکی نگرانی، ڈیجیٹل جامنگ نظام، بایومیٹرک تصدیق اور سائبر نگرانی کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، ایسے گروہ سرگرم رہیں گے۔
اب آگے کیا؟
فی الحال کمیشن نے دوبارہ امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ شفاف اور بدعنوانی سے پاک امتحان کا انعقاد اس کی اولین ترجیح ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ امتحان میں حفاظتی انتظامات پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوں گے۔
اس پورے معاملے نے ایک بار پھر بہار کے بھرتی امتحانی نظام پر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے — کیا تکنیکی دور میں شفاف امتحان کرانا اب سب سے بڑا انتظامی چیلنج بن چکا ہے؟
بہارپبلکسروسکمیشن #بہارخبریں #بھرتیامتحان #امتحانمنسوخ #پرچہلیک #بلوٹوتھنقل #طلبہ #پٹنہ #سرکارینوکری #تعلیمیخبریں #انصافٹائمز #تازہ_خبر