بنگلور (کرناٹک) میں ایک مجوزہ پروگرام کے حوالے سے تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کرناٹک چیپٹر نے نیشنل کالج، بسوانگُڑی کے پرنسپل کو ایک باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے کالج کیمپس میں منعقد ہونے والے پروگرام کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔
موصولہ معلومات کے مطابق ہندو جن جاگرتی سمیتی کی جانب سے 16 مئی 2026 کو کالج آڈیٹوریم میں “انڈرسٹینڈنگ کارپوریٹ جہاد میتھس اینڈ فیکٹس” کے عنوان سے ایک عوامی لیکچر منعقد کرنے کی تجویز ہے۔ اسی پروگرام پر اے.پی.سی.آر نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔
اے.پی.سی.آر کا اعتراض
اے.پی.سی.آر نے اپنے خط میں کہا ہے کہ پروگرام کا عنوان اور موضوع “فرقہ وارانہ طور پر حساس” ہے اور یہ کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا تاثر دیتا ہے۔ تنظیم نے اسے سماجی ہم آہنگی کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی زبان اور پیشکش سے تعلیمی ماحول متاثر ہو سکتا ہے اور طلبہ و عملے کے درمیان بے چینی اور تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
قانونی دفعات کا حوالہ
اے.پی.سی.آر نے اپنے خط میں بھارتیہ نیاے سنہتا کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے خطابات اور پروگرام “مذہبی بنیاد پر دشمنی پھیلانے” اور “عوامی بدامنی” کا سبب بن سکتے ہیں۔ تنظیم نے آئین کے آرٹیکل 51A کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سائنسی سوچ اور سماجی یکجہتی کو فروغ دیں۔
کیمپس میں امن و قانون کی صورتحال پر خدشات
تنظیم نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے پروگراموں سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بنگلور کے بسوانگُڑی علاقے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
پروگرام منسوخ کرنے کی درخواست
اے.پی.سی.آر کرناٹک نے کالج انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ اس پروگرام کی اجازت فوری طور پر منسوخ کی جائے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اگر پروگرام منعقد ہوتا ہے تو انتظامیہ سخت نگرانی کرے تاکہ کوئی قابل اعتراض یا غیر قانونی بات نہ کی جا سکے۔
تنظیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے ردعمل کا انتظار
فی الحال نیشنل کالج انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ مجوزہ پروگرام کے حوالے سے مقامی سطح پر بحث جاری ہے اور مختلف حلقے اب کالج انتظامیہ کے مؤقف کے منتظر ہیں۔