بہار کے ضلع گیا میں سیکیورٹی فورسز نے نکسلیوں کی ایک بڑی سازش کو بروقت ناکام بنا دیا۔ لٹوا تھانہ علاقے کے گھنے جنگلات میں کیے گئے سرچ آپریشن کے دوران سی آر پی ایف نے 5 کلو گرام وزنی طاقتور پریشر بیسڈ آئی ای ڈی برآمد کیا، جسے بعد میں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔ اس کارروائی سے ایک بڑا ممکنہ حادثہ ٹل گیا۔
خفیہ اطلاع پر سرچ آپریشن
ذرائع کے مطابق سی آر پی ایف کی 215ویں بٹالین کو نکسلی سرگرمیوں سے متعلق خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد کیمپ ناگوبار، گلریا تری اور سنگھوا کے پہاڑی و جنگلاتی علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
آپریشن کے دوران جدید ڈیٹیکشن ڈیوائس (DSMD) کی مدد سے زمین کے اندر دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا پتہ چلا۔ بعد ازاں اہلکاروں نے احتیاط کے ساتھ کھدائی کی، جہاں سے 5 کلو وزنی آئی ای ڈی برآمد ہوا۔
زمین کے اندر نصب دھماکہ خیز مواد
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ آئی ای ڈی پریشر میکانزم پر مبنی تھا، جو کسی شخص یا گاڑی کے گزرنے پر دھماکہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اندازہ ہے کہ اسے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے مقصد سے زمین کے اندر نصب کیا گیا تھا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنایا
برآمد شدہ آئی ای ڈی کو موقع پر ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کنٹرولڈ تکنیک کے ذریعے ناکارہ بنا دیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد انتہائی خطرناک تھا اور اگر پھٹ جاتا تو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو سکتا تھا۔
نکسلی حکمتِ عملی پر سوالات
اس واقعے نے ایک بار پھر نکسلیوں کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی کو نمایاں کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں گیا اور آس پاس کے نکسلی متاثرہ علاقوں میں براہ راست تصادم کے بجائے آئی ای ڈی حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق نکسلی اب چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سی آر پی ایف کا بیان
سی آر پی ایف کی 215ویں بٹالین کے کمانڈنٹ نے کہا کہ بروقت کارروائی سے ایک بڑی واردات ٹل گئی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے اور نکسلی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
علاقے میں سیکیورٹی سخت
واقعے کے بعد پورے علاقے میں اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آئی ای ڈی کس نیٹ ورک کے ذریعے نصب کیا گیا اور اس میں کون کون ملوث ہو سکتے ہیں۔
نکسلی متاثرہ علاقوں میں مسلسل آپریشن
واضح رہے کہ بہار کے گیا سمیت مختلف نکسلی متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل آپریشن جاری ہیں، جس کے باعث نکسلی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، تاہم اس طرح کے واقعات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔