کمال مولیٰ مسجد پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا مسلم پرسنل لا بورڈ، کہا: “تاریخی دستاویزات، اے.ایس.آئی ریکارڈ اور آئینی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا”

بھوج شالہ–کمال مولیٰ مسجد تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس میں بھوج شالہ–کمال مولیٰ مسجد کمپلیکس کو سرسوتی مندر قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ کمال مولیٰ مسجد کمیٹی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور بورڈ اس قانونی جدوجہد میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی حقائق، سرکاری ریکارڈ، ریونیو دستاویزات اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کے برعکس ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت نے صدیوں پر محیط مذہبی استعمال اور سرکاری دستاویزات کو مناسب اہمیت نہیں دی۔

ڈاکٹر الیاس کے مطابق بھارتی آثارِ قدیمہ سروے کا سابقہ موقف خود اس مقام کی مشترکہ مذہبی حیثیت کو تسلیم کرتا رہا ہے۔ اے.ایس.آئی کے ریکارڈ اور سائن بورڈز میں برسوں تک اس مقام کو “بھوج شالہ / کمال مولیٰ مسجد” کے نام سے درج کیا جاتا رہا۔ سن 2003 میں بنائے گئے انتظامی نظام کے تحت ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے دن نماز کی اجازت دی گئی تھی۔ بورڈ کے مطابق یہ انتظام دونوں برادریوں کے تاریخی دعووں کی سرکاری منظوری تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ مسلم فریق نے عدالت کے سامنے واضح کیا تھا کہ تاریخی ریونیو ریکارڈ میں اس عمارت کو مسلسل مسجد کے طور پر درج کیا گیا ہے، جبکہ ایسا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ اسی مقام پر راجہ بھوج کے دور کا سرسوتی مندر قائم تھا۔ بورڈ نے الزام عائد کیا کہ عدالت نے ان دستاویزات اور ریکارڈ کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی۔

پرسنل لا بورڈ نے ASI کے حالیہ سروے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں متعدد عمارتوں میں قدیم تعمیراتی باقیات اور مواد کا دوبارہ استعمال ایک عام تاریخی عمل رہا ہے۔ ایسے میں صرف چند ستونوں، نقاشیوں یا آثار کی بنیاد پر کسی مسجد کی صدیوں پرانی مذہبی شناخت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں راجہ بھوج، سنسکرت تعلیم اور ثقافتی روایات سے متعلق بیانیوں کو زیادہ اہمیت دی، جبکہ مسلسل مذہبی استعمال، سرکاری ریکارڈ اور آئینی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی روح کے بھی خلاف ہے، جس کا مقصد آزادی کے وقت مذہبی مقامات کی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔

بورڈ نے واضح کیا کہ وہ کمال مولیٰ مسجد کمیٹی کو ہر ممکن قانونی اور اخلاقی مدد فراہم کرے گا۔ اب اس معاملے کے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد ملک میں مذہبی مقامات، تاریخ اور آئینی حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کے مزید تیز ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

مالے کنونشن میں تنظیمی توسیع کا بڑا فیصلہ، کنال ایک بار پھر ریاستی سیکریٹری منتخب؛ “بلڈوزر راج” کے خلاف تیز تر جدوجہد کا اعلان

بھاکپا-مالے کا بارہواں بہار ریاستی کنونشن تین دنوں تک جاری وسیع سیاسی بحث، تنظیمی جائزہ

“اب اضلاع پر سیکریٹریٹ کی سیدھی نظر”: بہار میں انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیمِ نو، 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو اضلاع کی کمان

بہار حکومت نے انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ضلعی سطح پر جوابدہی کو