“بھارت-امریکہ جنگ ہوئی تو لوگ ‘جے شری رام’ بھول جائیں گے”: گیا میں راشٹریہ جنتا دل کے رکنِ پارلیمان سریندر پرساد یادو کے بیان سے سیاسی طوفان، معاشی بحران اور مذہبی سیاست پر نئی بحث چھڑ گئی

بہار کی سیاست میں اپنے بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہنے والے سریندر پرساد یادو ایک بار پھر تنازع کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ گیا میں منعقد ایک پروگرام کے دوران دیا گیا ان کا بیان ریاستی سیاست میں نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔

راشٹریہ جنتا دل کے رکنِ پارلیمان نے ملک کی معاشی صورتحال اور ممکنہ عالمی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر “بھارت اور امریکہ کی جنگ ہو گئی تو ایک مہینے میں لوگ ‘جے شری رام’ بولنا بھول جائیں گے۔” ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے سیاسی مسئلہ بنا لیا ہے۔

تعزیتی پروگرام میں دیا گیا بیان

اطلاعات کے مطابق جہان آباد کے رکنِ پارلیمان سریندر پرساد یادو گیا شہر کے کیدار ناتھ مارکیٹ واقع دی مگدھ کوآپریٹو بینک کے احاطے میں منعقد ایک تعزیتی پروگرام میں شریک تھے۔ یہ پروگرام سابق رکن اسمبلی ونئے یادو کے والد اور دی مگدھ کوآپریٹو بینک کے سابق چیئرمین مرحوم اومیش کمار ورما کی تیسری برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سریندر پرساد یادو نے ملک کی معیشت، بڑھتی مہنگائی اور کوآپریٹو نظام کو درپیش چیلنجز پر تشویش ظاہر کی۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ میں جنگ چھڑ گئی تو زیادہ دن نہیں لگیں گے اور ایک مہینے کے اندر لوگ “جے شری رام” بولنا بھول جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت لوگوں کو اپنے مرحوم عزیزوں کی بھی زیادہ یاد آنے لگے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک ایک سنگین معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور پارلیمنٹ میں بیٹھ کر وہ حالات کی شدت کو محسوس کر رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید

اپنے خطاب میں راشٹریہ جنتا دل کے رکنِ پارلیمان نے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ کوآپریٹو اداروں کو مناسب مدد نہیں مل رہی۔

سریندر پرساد یادو نے کہا کہ معاشی بحران “کینسر جیسی خطرناک بیماری” بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آج حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ بڑے بڑے رہنما بھی پیدل، ٹمپو اور سائیکل پر سفر کرتے نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

اس پروگرام کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں نے اس بیان کو مذہبی جذبات سے جوڑتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل پر حملہ کیا ہے، جبکہ راشٹریہ جنتا دل کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

تاہم اس معاملے پر ابھی تک راشٹریہ جنتا دل کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھی

سریندر پرساد یادو بہار کی سیاست کے سینئر رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھیوں میں ان کا نام لیا جاتا ہے۔ وہ آٹھ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور بہار حکومت میں کوآپریٹو اور ایکسائز جیسے اہم محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

دو ہزار چوبیس کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے جہان آباد نشست سے کامیابی حاصل کی اور اس وقت وہ راشٹریہ جنتا دل کے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں بحث تیز

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار میں آنے والے انتخابی ماحول کے دوران اس طرح کے بیانات سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی مسائل اور مذہبی سیاست پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔

فی الحال سریندر پرساد یادو کا یہ بیان بہار کی سیاست میں اہم موضوع بنا ہوا ہے اور آئندہ دنوں میں اس پر سیاسی بیان بازی مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔

مالے کنونشن میں تنظیمی توسیع کا بڑا فیصلہ، کنال ایک بار پھر ریاستی سیکریٹری منتخب؛ “بلڈوزر راج” کے خلاف تیز تر جدوجہد کا اعلان

بھاکپا-مالے کا بارہواں بہار ریاستی کنونشن تین دنوں تک جاری وسیع سیاسی بحث، تنظیمی جائزہ

“اب اضلاع پر سیکریٹریٹ کی سیدھی نظر”: بہار میں انتظامی ڈھانچے کی بڑی تنظیمِ نو، 34 سینئر آئی اے ایس افسران کو اضلاع کی کمان

بہار حکومت نے انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ضلعی سطح پر جوابدہی کو