تحقیق کو حقیقی مسائل کے مؤثر حل میں تبدیل کرنا: ظہور حسین بٹ

آئی آئی ٹی کانپور اور این وائی یو ٹنڈن اسکول آف انجینئرنگ کے درمیان شراکت اس امر کی عکّاس ہے کہ جدید ٹیکنالوجیوں میں مشترکہ تحقیق تجربہ گاہ کی حدود سے نکل کر عملی اطلاق تک پہنچنے کے ساتھ امریکہ۔ہندوستان تعاون کو بھی مزید مستحکم کر رہی ہے۔جیسے جیسے جامعات جدید ٹیکنالوجیوں میں تعاون کو گہرا کر رہی ہیں، تعلیمی شراکت داریاں اب صرف مشترکہ تحقیقی نتائج تک محدود نہیں رہیں ۔اب توجہ اس بات پر بھی دی جا رہی ہے کہ خیالات کو کس حد تک مؤثر طریقے سے قابلِ نفاذ حل میں بدلا جا سکے۔ آئی آئی ٹی کانپور اور نیو یارک یونیورسٹی ٹنڈن اسکول آف انجینئرنگ کے درمیان تعاون اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جو سائبر سکیورٹی، بایو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹِکس اور وائر لیس کمیو نی کیشن جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کو یکجا کرتا ہے۔این وائی یو ٹنڈن اسکول آف انجینئرنگ کے ایکزیکٹو ڈین اور گلوبل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایکزیکٹو وائس پریزیڈنٹ وان ڈی پابلو کہتے ہیں ’’ہم نے باضابطہ معاہدے کے پہلے ہی سال میں سات مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کیے، جو اس نوعیت کی شراکت داری کے لیے کافی تیز رفتار پیش رفت ہے۔ آئی آئی ٹی کانپور میں قائم این وائی یو ٹنڈن۔آئی آئی ٹی کے ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر اس تعاون کو ایک مستقل بنیاد فراہم کرتا ہے اور ہمارا ڈاکٹریٹ ڈوئل ڈگری پروگرام ایسے محققین کو تربیت دے رہا ہے جن کے دونوں اداروں کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی روابط ہیں۔‘‘یہ تعاون 2016 میں شروع ہوا، جب این وائی یو ٹنڈن کے سائبر سلامتی سے متعلق ہفتہ کو ہندوستان تک توسیع دی گئی اور آئی آئی ٹی کانپور نے اس مقابلے کی میزبانی کی۔ اسی ابتدائی اشتراک نے ایک وسیع، کثیر جہتی تحقیقی شراکت داری کی بنیاد رکھی، جس کے تحت 2023 میں اہم شعبوں میں مشترکہ تحقیق کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔یہ مسلسل تعاون اہلیت، بنیادی ڈھانچہ اور تحقیقی نظاموں میں موجود ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ادارہ جاتی صلاحیتوں پر قائم ہے۔آئی آئی ٹی کانپور کے ڈائریکٹر پروفیسر منندر اگروال کہتے ہیں ’’اس قسم کی شراکت داریاں اس لیے کامیاب ہوتی ہیں کیوں کہ دونوں اداروں کی منفرد صلاحیتوں کو یکجا ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ہندوستان میں ہمارے پاس انجینئرنگ کے شعبے میں اہلیت کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، اور بایوٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں حالیہ پیش رفت نے یہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی مسائل کے کم لاگت حل تیار کرنے میں ہندوستان نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘ دوسری جانب، امریکی جامعات کے پاس مضبوط تحقیقی بنیادی ڈھانچہ اور خاطر خواہ تحقیقی فنڈنگ تک رسائی موجود ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’یہی باہمی تکمیلیت آئی آئی ٹی کے اور این وائی یو کی شراکت کو حقیقی طور پر کامیاب بناتی ہیں۔‘‘ڈی پابلو بھی اس نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق این وائی یو سائبر سیکورٹی اور 6 جی وائرلیس جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ مراکز کے ساتھ ساتھ نیو یارک کا ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جو تجارت کاری کے لیے سازگار ہے، جب کہ آئی آئی ٹی کے ایک مضبوط تدریسی عملہ، باصلاحیت طلبہ اور ہندوستان کے پیمانے پر کام کرنے کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔*تجربہ گاہ کی تحقیق سے حقیقی نظام تکیہ تکمیلی صلاحیتوں پر توجہ ان ٹیکنالوجیوں کی وسیع رینج میں واضح طور پر نظر آتی ہے جن پر یہ شراکت داری کام کر رہی ہے۔ آئی آئی ٹی کے۔این وائی یو تعاون کا ایک اہم شعبہ سپلائی چینس اور بایومیڈیکل ایپلی کیشنس کے لیے محفوظ تصدیقی نظاموں کی تیاری ہے، خاص طور پر ایسی چیزوں کے ذریعہ جن کی طبیعی طور پر نقل نہ کی جاسکے اور بایو چِپ ٹیکناجوجیوں کے ذریعے۔ تحقیقی ٹیموں نے ایسے فنگر پرنٹنگ سسٹمس تیار کیے ہیں جو توثیق کے لیے منفرد مادّی شناختی نشانات پیدا کرتے ہیں۔ان پیٹرنوں کو مشین لرننگ ماڈلس کے ذریعے پراسیس کیا جاتا ہے تاکہ شور والے حالات میں بھی اعلیٰ درستگی کے ساتھ شناخت ممکن ہو سکے۔ اس سے ایسے انتہائی محفوظ شناختی نظام تیار کیے جا سکتے ہیں جن کی نقل کرنا مشکل ہو۔ یہ نظام سپلائی چینس میں جعلسازی کو روکنے اور حسّاس بایومیڈیکل ایپلی کیشنوں میں قابلِ اعتماد تصدیق کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔اگروال کے مطابق یہ نظام درستگی اور مزاحمت دونوں فراہم کرتا ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں ’’ان جسمانی خصوصیات کو ڈیپ لرننگ تکنیکوں کے ذریعے پراسیس اور تصدیق کیا جاتا ہے، جس سے 95.8 فی صد درستگی حاصل ہوتی ہے اور مخالف نوعیت کے شور کے خلاف مضبوط کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔‘‘محفوظ نظاموں سے آگے بڑھتے ہوئے، یہ تعاون بایومیڈیکل تحقیق تک بھی پھیلتا ہے، جہاں شراکت داری علاج کے ممکنہ طریقۂ کار پر کام کر رہی ہے۔ ڈی پابلو اس سمت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’مثال کے طور پر، ایک ایسا مخصوص پروٹین تیار کیا جا رہا ہے جو ایک اہم بقا کے سگنل کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو کینسر کے ٹیومرس کو بڑھتے رہنے دیتا ہے، اور اس طرح علاج کے لیے ایک ممکنہ نیا راستہ فراہم کرتا ہے۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ یہاں توجہ طویل المدتی نظری تحقیق کے بجائے فوری عملی اطلاق پر ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’میرے خیال میں اس کام کی سب سے اہم بات اس کا حقیقی دنیا میں فوری اطلاق ہے۔‘‘اسی طرح کا اطلاقی رجحان جدید انجینئرنگ نظاموں تک بھی پھیلتا ہے۔ تعاون کا ایک اہم شعبہ وائرلیس کمیونیکیشن سسٹمس، برقی مقناطیسی انجینئرنگ اور توانائی کی منتقلی کی ٹیکنالوجیوں پر مشتمل ہے۔ اگروال اس کام کے دائرہ کار کو سسٹم پر مبنی انجینئرنگ تحقیق کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’بیم فارمنگ، وائرلیس پاور ٹرانسفر اور برقی مقناطیسی مداخلت کے انتظام جیسے استعمالات کے لیے ایک نظام تیار کیا گیا ہے۔‘‘ یہ کام اس لیے اہم ہے کہ ٹیمیں وائرلیس نظاموں کو زیادہ تیز، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے پر کام کر رہی ہیں، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ حقیقی حالات میں سگنلز اور پیمائش درست رہیں۔‘‘*عملی نفاذ کو فروغ دینااس تعاون کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تحقیق کو عملی نفاذ کے قابل ٹیکنالوجیوں اور تجارتی ایپلیکیشنز میں تبدیل کرنے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ڈی پابلو کے مطابق کئی منصوبے واضح طور پر تجارت کاری کے مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں، جن میں جدید حفاظتی خصوصیات کے ساتھ وائرلیس الیکٹرک گاڑی چارجنگ سسٹمس شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ہمارے تمام مشترکہ منصوبے اسی اصول کی عکاسی کرتے ہیں: ایسی تحقیق جو ابتدا ہی سے عملی نفاذ کے لیے تیار ہو۔‘‘وہ اس تعاون سے سامنے آنے والے ابتدائی دانشورانہ ملکیت کے نتائج کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں، خاص طور پر ایک بایوچِپ تصدیقی ٹیکنالوجی، جس کے لیے امریکہ میں پیٹنٹ کی درخواست زیر غور ہے۔پروفیسر اگروال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مشترکہ ڈھانچے اور فنڈنگ کے طریقۂ کار تحقیق سے اطلاق تک کے سفر کو تیز بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’مل کر کام کرنے والے محققین کو بڑی فنڈنگ کے مواقع اور جدید تحقیقی سہولیات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔‘‘*اسٹریٹجک ٹیکنالوجی شراکت داری کو آگے بڑھانادونوں ادارے اس شراکت داری کو جدید ٹیکنالوجیوں میں امریکہ۔ ہند تعاون کی بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔اگروال کہتے ہیں ’’امریکہ اور ہندوستان کے پاس بہت سی تکمیلی صلاحیتیں ہیں‘‘ اور مزید کہتے ہیں کہ ایسی شراکت داریاں ان منفرد صلاحیتوں کو اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں اعلیٰ درجے کی تحقیق کے لیے یکجا کر سکتی ہیں۔آگے بڑھتے ہوئے، ڈی پابلو کہتے ہیں کہ این وائی ٹنڈ ن اسکول آف انجینئرنگ کئی ایسے تحقیقی شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس، کوانٹم انفارمیشن سائنسس، چپ ڈیزائن،مٹیریلس سائنس، سسٹمس انجینئرنگ اور اسمارٹ سٹیز شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم ان شعبوں میں آئی آئی ٹی کانپور کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے منتظر ہیں۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان ایک وسیع تر ساختی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ہندوستان کے پاس انجینئرنگ ٹیلنٹ، مقامی پیمانہ اور ان شعبوں میں قیادت کرنے کا بڑھتا ہوا عزم ہے، جبکہ امریکہ تحقیق کا انفراسٹرکچر اور عالمی صنعتی نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔ کسی ایک ملک یا ادارے کے پاس تمام درکار وسائل اکیلے موجود نہیں ہوتے۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں ’’جب دونوں ممالک کے ادارے محض معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی عملی تعلقات قائم کرتے ہیں، تو وہ ایسی تکنیکی صلاحیت پیدا کرتے ہیں جو کسی ایک تحقیقی منصوبے سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔‘‘بشکریہ: اسپَین میگزین

تحقیق کو حقیقی مسائل کے مؤثر حل میں تبدیل کرنا: ظہور حسین بٹ

آئی آئی ٹی کانپور اور این وائی یو ٹنڈن اسکول آف انجینئرنگ کے درمیان شراکت

مظفر پور میں اردو زبان سیل کا مسابقتی پروگرام: طلبہ و طالبات نے پیش کی شاندار صلاحیت، ’اردو نامہ‘ رسالے کا اجرا

اردو ڈائریکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سیکرٹریٹ، حکومتِ بہار کی منصوبہ بندی کے تحت اردو زبان سیل،