ملک کے سب سے بڑے طبی داخلہ امتحان نیٹ-یو جی 2026 کے پرچہ لیک تنازع اور امتحان منسوخ کیے جانے کے فیصلے نے ایک بار پھر قومی امتحانی ایجنسی اور مرکزی حکومت کے امتحانی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس پورے معاملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ یہ صرف ایک امتحان میں ہونے والی بے ضابطگی نہیں، بلکہ ملک کے مرکزی امتحانی نظام کے گہرے ادارہ جاتی بحران کی علامت ہے۔
طلبہ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ 22 لاکھ سے زائد طلبہ کی جانب سے دیے گئے امتحان کا منسوخ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور قومی امتحانی ایجنسی ملک کے اہم ترین مسابقتی امتحانات کی شفافیت اور حفاظت یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ پرچہ لیک کی سنگین خبروں اور معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو کی جانچ شروع ہونے کے بعد طلبہ اور والدین کے درمیان شدید بے یقینی اور غم و غصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔
تنظیم نے الزام عائد کیا کہ نیٹ-یو جی 2024 تنازع کے بعد مرکزی حکومت نے سخت انسدادِ پرچہ لیک قوانین اور نگرانی کے مضبوط نظام کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک بار پھر امتحانی نظام کی ساکھ بکھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ صورتحال اُن لاکھوں غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے جو برسوں کی محنت، مالی بوجھ، ذہنی دباؤ اور بے شمار قربانیوں کے بعد طبی تعلیم کا خواب دیکھتے ہیں۔
تنظیم نے کہا کہ ہر بار امتحان منسوخ ہونے اور دوبارہ امتحان کرانے کا عمل طلبہ کی ذہنی کیفیت کو مزید غیر مستحکم کر رہا ہے۔ مسلسل سامنے آنے والے امتحانی گھوٹالوں نے نوجوانوں میں عدم تحفظ، ذہنی تناؤ اور مستقبل کے حوالے سے گہری بے چینی پیدا کر دی ہے، جبکہ ذمہ دار ادارے جوابدہی سے بچتے نظر آتے ہیں۔
اپنے بیان میں تنظیم نے یہ بھی کہا کہ اگر بھاری وسائل، تکنیکی ڈھانچے اور قانونی انتظامات کے باوجود مرکزی امتحانی نظام بار بار ناکام ہو رہا ہے تو اب امتحانی عمل کو غیر مرکزی بنانے اور قومی امتحانی ایجنسی کی از سر نو تنظیم کے حوالے سے سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے۔ تنظیم نے مرکزی وزیر تعلیم سے “اخلاقی ذمہ داری” قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی شفاف اور وقت بند جانچ کرائی جائے، پرچہ لیک نیٹ ورک سے جڑے تمام افراد کو سخت سزا دی جائے، اور قومی امتحانی ایجنسی و مرکزی حکومت کی جوابدہی طے کی جائے۔ تنظیم نے کہا کہ وہ اُن لاکھوں طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جن کا اعتماد اور مستقبل ایک بار پھر امتحانی نظام کی ناکامیوں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔
نیٹ-یو جی 2026 تنازع نے ایک بار پھر اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ آیا ملک کا موجودہ امتحانی نظام طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا پھر وسیع اصلاحات کی جانب ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔