اردو ڈائریکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سیکرٹریٹ، حکومتِ بہار کی منصوبہ بندی کے تحت اردو زبان سیل، مظفر پور کے زیر اہتمام ضلع پریشد کے کانفرنس ہال میں ایک شاندار اور باوقار مسابقتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف تعلیمی سطحوں کے طلبہ و طالبات نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پروگرام میں دسویں، انٹر اور گریجویشن کے طلبہ نے مقررہ موضوعات—“کتابیں ہماری دوست ہیں کیسے؟”، “آزادی میں اردو صحافت کا اہم کردار” اور “اردو زبان اور گلوبلائزیشن” پر نہایت مؤثر اور مدلل تقاریر پیش کیں۔ شرکاء کی فصاحت، فکری گہرائی اور زبان دانی کو حاضرین نے سراہا۔
اس موقع پر ضلع سطحی اردو رسالہ “اردو نامہ، مظفر پور” کا باقاعدہ اجرا بھی عمل میں آیا۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی سے ہوا، جس نے پورے ماحول کو پر وقار اور روحانی کیفیت عطا کی۔
قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے پروگرام طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقابلے طلبہ کو “ذرہ سے آفتاب” بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مسلسل محنت اور بہتر کارکردگی کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے “اردو نامہ” کی اشاعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ ضلع کوشاغار افسر و ڈپٹی ڈی ڈی او اردو زبان سیل ویس الرحمن، مترجم افسر و انچارج اشرت جہاں اور مدیر وصی احمد الحریری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ رسالے میں اردو ادب کی مختلف اصناف—نظم، غزل اور نثر—کا خوبصورت امتزاج پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اردو زبان کی تاریخ، اس کے مسائل اور اہم شخصیات پر بھی تفصیلی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویس الرحمن کی محنت سے ملک کے نامور شعرا و ادبا کی تخلیقات کو اس اشاعت میں شامل کرنا ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔
مسابقتی پروگرام میں ججوں کے فرائض ڈاکٹر زینت، محمد سہراب، محمد ناصرالدین، ڈاکٹر کوثر علی اور ڈاکٹر مستفیض احمد نے انجام دیے۔ مقابلے کے اختتام پر اول، دوم اور سوم آنے والے طلبہ کو حکومتِ بہار کی جانب سے انعامی رقم، میڈل اور اسناد سے نوازا گیا۔
پروگرام کی صدارت ویس الرحمن انصاری نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے پروگرام اردو زبان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
اس موقع پر پروفیسر وسیم رضا، امیر حیدر، شکیل چشتی، صحافی نزہت جہاں، شاعر و صحافی اعجاز عادل، ڈاکٹر مطیع الرحمن عزیز سمیت متعدد ادیب، صحافی، اساتذہ اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اور اردو ادب سے وابستہ افراد نے شرکت کر کے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
اختتام پر تمام مہمانانِ خصوصی نے طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات سے نوازا۔