بہار کے نئے ڈگری کالجوں میں اردو کو جگہ نہیں: 6656 اسسٹنٹ پروفیسر اسامیوں میں اردو کے لیے ایک بھی عہدہ نہیں، جے ڈی یو اقلیتی سیل دہلی کے صدر ساجد مجیب کے اعتراض پر جے ڈی یو ایم ایل سی و قومی جنرل سکریٹری آفاق احمد خان نے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری اور محکمۂ تعلیم کو بھیجا خط، این۔ای۔پی 2020 کا بھی دیا حوالہ

بہار کے نو قائم شدہ ڈگری کالجوں میں اردو مضمون کو شامل نہ کیے جانے کا معاملہ اب حکمراں اتحاد کے اندر بھی ایک سنجیدہ سیاسی اور تعلیمی بحث کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی جنرل سکریٹری اور رکنِ بہار قانون ساز کونسل آفاق احمد خان نے اس معاملے میں براہِ راست وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری کو خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی اس خط کی نقل محکمۂ تعلیم اور وزیرِ تعلیم کو بھی ارسال کی گئی ہے، جس سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ جے ڈی یو اس مسئلے کو صرف تنظیمی سطح پر نہیں بلکہ حکومتی سطح پر بھی سنجیدگی سے اٹھا رہی ہے۔

یہ پورا معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب جے ڈی یو دہلی پردیش اقلیتی سیل کے صدر ساجد مجیب نے بہار حکومت کی “سیون ریزولووز-3 (2025-30)” اسکیم کے تحت قائم کیے جا رہے 208 نئے ڈگری کالجوں میں اردو مضمون کے لیے ایک بھی اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامی مقرر نہ کیے جانے پر اعتراض درج کیا۔ انہوں نے اسے اردو زبان اور اس سے وابستہ لاکھوں طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور NET/PhD اہل نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا تھا۔

ساجد مجیب کی جانب سے بھیجی گئی تفصیلی عرضداشت کو اب جے ڈی یو کے سینئر لیڈر اور قانون ساز کونسل کے رکن آفاق احمد خان نے باضابطہ طور پر وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری تک پہنچایا ہے۔ اپنے خط میں آفاق احمد خان نے وزیرِ اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ ساجد مجیب کی درخواست میں درج نکات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور بہار کے نو قائم شدہ ڈگری کالجوں میں اردو تعلیمی مضمون کو مناسب مقام دیا جائے۔

اپنے سرکاری خط میں آفاق احمد خان نے لکھا کہ جے ڈی یو اقلیتی سیل دہلی پردیش کے صدر ساجد مجیب نے اردو زبان سے متعلق اہم تعلیمی مسائل کو اٹھایا ہے اور حکومت کو اس سمت میں مثبت قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ نئے کالجوں میں اردو مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ خط میں درج دیگر مطالبات پر بھی ہمدردانہ غور کیا جائے۔

سیاسی طور پر اس معاملے کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ بہار حکومت بی جے پی قیادت والے این ڈی اے اتحاد کی حکومت ہے، جس میں جنتا دل (یونائیٹڈ) ایک اہم اتحادی جماعت ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری خود اسی این ڈی اے حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایسے میں اتحادی جماعت جے ڈی یو کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے اردو نمائندگی کا مسئلہ براہِ راست وزیرِ اعلیٰ اور محکمۂ تعلیم کے سامنے اٹھایا جانا سیاسی حلقوں میں ایک اہم اشارہ مانا جا رہا ہے۔

اردو کے تعلق سے اٹھائی گئی اس مانگ کے پیچھے ایک مضبوط تعلیمی دلیل بھی پیش کی جا رہی ہے۔ جے ڈی یو رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور ریاست کی متعدد یونیورسٹیوں اور کالجوں میں برسوں سے اس کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود نئے ڈگری کالجوں میں اردو مضمون کے لیے ایک بھی اسامی مقرر نہ ہونا زبان کے آئینی اور تعلیمی حقوق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

ساجد مجیب نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ قومی تعلیمی پالیسی مادری زبانوں اور علاقائی زبانوں کے فروغ پر خصوصی زور دیتی ہے۔ ایسے میں اردو کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا تعلیمی پالیسی کی بنیادی روح کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اردو مضمون کے لیے مناسب تعداد میں اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامیاں پیدا کی جائیں، تقرری کے عمل پر دوبارہ غور کیا جائے اور اردو اساتذہ و امیدواروں کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ بات چیت کی جائے۔

اب آفاق احمد خان کی سرکاری مداخلت کے بعد اس معاملے کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بہار کی تعلیمی پالیسی، لسانی نمائندگی اور اردو اساتذہ کی تقرریوں کے حوالے سے یہ بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔ اردو تنظیموں اور ماہرینِ تعلیم کی نظریں اب وزیرِ اعلیٰ کے دفتر اور محکمۂ تعلیم کے آئندہ ردِ عمل پر مرکوز ہیں۔

مظفر پور میں اردو زبان سیل کا مسابقتی پروگرام: طلبہ و طالبات نے پیش کی شاندار صلاحیت، ’اردو نامہ‘ رسالے کا اجرا

اردو ڈائریکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سیکرٹریٹ، حکومتِ بہار کی منصوبہ بندی کے تحت اردو زبان سیل،