کرناٹک کے ضلع بیلاگاوی سے سامنے آنے والے ایک چوری اور رشتوں کے تنازع نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس نے ایک نو بیاہتا خاتون اور اس کے مبینہ سابق عاشق کو شوہر کے گھر سے تقریباً 21 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات چرانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں ملزمان زیورات کے ساتھ فرار ہونے کی تیاری میں تھے، تاہم شکایت درج ہونے کے بعد تیزی سے کی گئی کارروائی میں 48 گھنٹوں کے اندر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت حسینہ نداف کے طور پر ہوئی ہے جبکہ اس کے مبینہ عاشق کا نام ہنومتھ مراپور بتایا جا رہا ہے۔ حسینہ کی شادی تقریباً دو ماہ قبل محمد شریف نامی نوجوان سے ہوئی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شادی کے بعد بھی خاتون اپنے سابق عاشق کے رابطے میں تھی اور دونوں کے درمیان مسلسل گفتگو جاری تھی۔
شادی کے چند ہفتوں بعد گھر سے لاکھوں روپے کے زیورات غائب
پولیس ذرائع کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محمد شریف کے خاندان نے گھر میں رکھے سونے کے زیورات کے غائب ہونے کی شکایت درج کرائی۔ خاندان کا کہنا تھا کہ گھر سے اچانک کئی قیمتی زیورات لاپتہ ہو گئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 21 لاکھ روپے بتائی گئی۔
شکایت کے بعد مقامی پولیس نے تحقیقات شروع کی۔ دورانِ تفتیش پولیس کو خاتون کی سرگرمیوں اور فون رابطوں پر شک ہوا۔ تکنیکی شواہد اور کال ڈیٹیلز کی بنیاد پر پولیس کی تفتیش حسینہ اور اس کے مبینہ عاشق تک پہنچ گئی۔
پولیس کا دعویٰ “دونوں ملزمان فرار کی تیاری میں تھے”
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ اشارے ملے کہ دونوں ملزمان چوری شدہ زیورات کے ساتھ کہیں اور فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے زیادہ تر چوری شدہ سونے کے زیورات بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برآمد شدہ زیورات میں سونے کے کئی قیمتی زیورات شامل ہیں۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ منصوبہ پہلے سے بنایا گیا تھا یا واقعہ اچانک پیش آیا۔
48 گھنٹوں میں گرفتاری، عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ دے دیا
پولیس نے بتایا کہ شکایت درج ہونے کے بعد ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو 48 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں دونوں کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
تحقیقات کرنے والے افسران کے مطابق ڈیجیٹل شواہد، کال ریکارڈز اور برآمد شدہ زیورات کی مزید جانچ جاری ہے۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس مبینہ چوری میں کسی اور شخص کا کردار بھی شامل تھا یا نہیں۔
علاقے میں واقعہ زیرِ بحث
واقعے کے بعد پورے علاقے میں یہ معاملہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ مقامی افراد میں رشتوں پر اعتماد، خاندانی مسائل اور سماجی تعلقات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے حساس معاملات میں افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری معلومات پر اعتماد کریں۔