بہار کانگریس میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور اے آئی سی سی رکن آنند مادھو نے بہار کانگریس کے انچارج کرشنا الاوارو اور ریاستی صدر راجیش رام پر سخت حملہ کرتے ہوئے تنظیمی کام کاج، رکنیت مہم اور حالیہ اخراجی کارروائیوں پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
آنند مادھو نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سابق این ایس یو آئی صدر ڈاکٹر راشد فاخری، انٹک رہنما اونکارا شکتی اور چندن سنگھ کی پارٹی سے بے دخلی “غلط، آمرانہ اور کارکنوں کے حوصلے کو توڑنے والا قدم” ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بہار کانگریس کی موجودہ قیادت “مخلص کارکنوں کو کنارے لگا کر پارٹی کو کانگریسیوں سے خالی کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔”
انہوں نے بہار انچارج کرشنا الاوارو کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ “سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نیٹ ورکنگ کمپنی کی طرح بہار کانگریس چلا رہے ہیں۔” آنند مادھو کے مطابق اسمبلی انتخابات اور راجیہ سبھا انتخابات، دونوں محاذوں پر بہار انچارج ناکام رہے، لیکن اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے مسلسل کارکنوں کو قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
پریس بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران کارکنوں کو مختلف منصوبوں اور وعدوں میں الجھائے رکھا گیا، جبکہ آخر میں “باہر سے آنے والے امیدواروں” کو ٹکٹ دیے گئے اور ٹکٹوں کی تقسیم میں “لوٹ” مچائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں مبینہ کراس ووٹنگ کرنے والے اراکینِ اسمبلی کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہ ہونا قیادت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
آنند مادھو نے تنظیمی ڈھانچے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ضلعی صدور کی تقرری میں طے شدہ اصولوں کی پابندی نہیں کی گئی اور “سنگٹھن سرجن” مہم صرف دکھاوا بن کر رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق رکنیت مہم میں پانچ روپے کی جگہ پچاس روپے وصول کیے جانے سے کارکنوں اور عام حامیوں میں مایوسی پائی جا رہی ہے اور پوری مہم انتہائی سست رفتاری سے چل رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “سنگٹھن سرجن” مہم “کارکنوں کو گمراہ کرنے اور وصولی کا نیا ذریعہ” بن گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی کانگریس میں کس کو کون سا عہدہ ملے گا، اس کی فہرست پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے اور موجودہ عمل صرف رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے۔
ریاستی صدر راجیش رام کے حوالے سے بھی انہوں نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ “کرشنا الاوارو کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں۔”
اپنے بیان کے اختتام پر آنند مادھو نے کانگریس ہائی کمان سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بہار کانگریس میں حقیقی اصلاحات اور مثبت تبدیلی لانی ہے تو نکالے گئے رہنماؤں کی رکنیت فوراً بحال کی جائے اور بہار انچارج و ریاستی صدر کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔
بہار کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی بیان بازی اور عوامی سطح پر الزامات و جوابی الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پارٹی ریاست میں تنظیمی ازسرِ نو تشکیل اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔