تمل ناڈو کی سیاست میں سنیما کی 70 سالہ حکمرانی : انّا دورئی، کروناندھی، ایم جی آر، جے للیتا، اسٹالن، ادھیانِدھی سے وجے تک، کیسے فلمی پردے نے اقتدار کی سمت طے کی

اگر ہندوستان کی سیاست میں کسی ایک ریاست نے فلموں اور اقتدار کے رشتے کو سب سے گہرائی سے جیا ہے تو وہ تمل ناڈو ہے۔ یہاں سنیما صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ سماجی تحریکوں، لسانی شناخت، ذات پات مخالف سیاست، عوامی جذبات اور انتخابی جدوجہد کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اداکار وجے اور ان کی پارٹی “تملگا ویتری کڑگم” (ٹی وی کے) کے عروج کو تمل سماج کسی “نئی واردات” کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ ایک طویل سیاسی و ثقافتی تاریخ کی اگلی کڑی سمجھ رہا ہے۔

تمل ناڈو میں گزشتہ تقریباً سات دہائیوں سے فلم اور سیاست اس طرح ایک دوسرے میں گھل چکے ہیں کہ کئی بار دونوں کی سرحدیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ ریاست کی دو سب سے طاقتور سیاسی جماعتیں دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) براہِ راست فلمی صنعت اور دراوڑی ثقافتی تحریک سے متاثر رہی ہیں۔ یہاں اداکار، اسکرپٹ رائٹر، مکالمہ نگار، ڈرامہ نگار اور فلمی پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ وزرائے اعلیٰ بنتے رہے ہیں۔

دراوڑی تحریک نے فلموں کو سیاسی ہتھیار بنایا

تمل سیاست میں فلموں کا منظم سیاسی استعمال دراوڑی تحریک نے شروع کیا۔ اس کی نظریاتی جڑیں ای وی راماسامی “پیریار” کی خود احترامی تحریک سے جڑی تھیں، جو برہمن واد، ذات پات کے نظام اور سماجی عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کر رہی تھی۔

اس دور میں دراوڑی رہنماؤں نے سمجھ لیا تھا کہ صرف جلسوں اور اخبارات کے ذریعے عوام تک پہنچنا کافی نہیں ہوگا۔ تمل سماج میں تھیٹر اور سنیما تیزی سے مقبول ہو رہے تھے، اس لیے فلموں کو نظریاتی تشہیر کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جس نے تمل ناڈو کی سیاست کو ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے الگ شناخت دی۔

انّا دورئی : جنہوں نے سیاست کی زبان بدل دی

دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کے بانی سی این انّا دورئی صرف سیاست دان نہیں تھے بلکہ صحافی، ادیب، ڈرامہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر بھی تھے۔ انہوں نے فلموں اور ڈراموں کے ذریعے دراوڑی نظریات کو عوام تک پہنچایا۔

انّا دورئی نے فلموں کی زبان کو سنسکرت زدہ اور اشرافیہ کی تمل سے نکال کر عام لوگوں کی بول چال کی زبان بنایا۔ یہ تبدیلی صرف لسانی نہیں بلکہ سیاسی بھی تھی۔ اس سے غریب، پسماندہ اور غیر برہمن طبقات کو پہلی بار محسوس ہوا کہ سنیما اور سیاست ان کی زبان میں ان سے بات کر رہے ہیں۔

ان کے لکھے ہوئے مکالموں اور کہانیوں میں سماجی انصاف، ذات پات مخالفت، خود احترامی اور تمل شناخت نمایاں طور پر دکھائی دیتی تھی۔ بعد میں یہی انداز دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کی سب سے بڑی طاقت بنا۔

کروناندھی : جن کے مکالمے سیاسی نعرے بن گئے

سابق وزیر اعلیٰ ایم کروناندھی کو تمل سیاست کا سب سے بااثر اسکرپٹ رائٹر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے فلموں کے لیے ایسے مکالمے لکھے جن میں سیاست، سماجی انصاف اور نظریاتی جدوجہد کھل کر سامنے آتی تھی۔

1952 میں ریلیز ہونے والی فلم “پراشکتی” تمل سنیما اور سیاست دونوں کی تاریخ میں سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ اس فلم میں مذہبی منافقت، سماجی نابرابری اور برہمن وادی غلبے پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اس وقت فلم پر بڑا تنازعہ کھڑا ہوا، لیکن یہی تنازعہ اسے گاؤں گاؤں تک لے گیا۔

کروناندھی کی زبان اتنی مؤثر تھی کہ ان کے فلمی مکالمے انتخابی نعروں اور سیاسی تقریروں کا حصہ بن گئے۔ بعد میں وہ پانچ مرتبہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنے اور دراوڑی سیاست کے سب سے بڑے چہروں میں شمار ہوئے۔

ایم جی آر : پردے کا ہیرو جو عوام کا رہنما بن گیا

ایم جی رامچندرن یعنی ایم جی آر نے تمل سیاست کو مکمل طور پر بدل دیا۔ وہ صرف سپر اسٹار نہیں تھے بلکہ عوامی جذبات کی علامت بن چکے تھے۔

فلموں میں ان کی شبیہ غریبوں کے محافظ، ایماندار انسان اور ظلم کے خلاف لڑنے والے ہیرو کی تھی۔ ناظرین نے اس کردار کو حقیقی زندگی سے جوڑ لیا اور یہی ان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بن گئی۔

ایم جی آر پہلے دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) میں تھے اور پارٹی کے سب سے مقبول مقرر اور پرچارک مانے جاتے تھے، لیکن کروناندھی سے اختلافات کے بعد انہوں نے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) قائم کی۔

1977 میں وہ وزیر اعلیٰ بنے اور اپنی وفات تک اقتدار میں رہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ تمل ناڈو میں فلمی مقبولیت براہِ راست انتخابی طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

جے للیتا : اداکارہ سے “امّاں” بننے تک

سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا تمل فلموں کی نہایت مقبول اداکارہ تھیں۔ انہوں نے ایم جی آر کے ساتھ کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا اور دونوں کی جوڑی غیر معمولی مقبولیت رکھتی تھی۔

ایم جی آر کی وفات کے بعد آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) میں جانشینی کی لڑائی شروع ہوئی، لیکن جے للیتا نے آہستہ آہستہ خود کو سب سے مضبوط رہنما کے طور پر قائم کر لیا۔

انہوں نے صرف اقتدار حاصل نہیں کیا بلکہ “امّاں” کے طور پر جذباتی سیاسی شناخت بھی بنائی۔ غریبوں کے لیے فلاحی اسکیموں، سبسڈی اور عوامی رابطے کے ذریعے انہوں نے اپنے حامیوں کے درمیان تقریباً کرشماتی شخصیت تیار کر لی۔

اسٹالن اور ادھیانِدھی : تنظیم اور سنیما کا نیا امتزاج

موجودہ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے نوجوانی میں فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کی تھی، لیکن ان کی اصل شناخت تنظیمی سیاست رہی۔ وہ دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کی یوتھ ونگ سے نکلے، چنئی کے میئر بنے، پھر وزیر، نائب وزیر اعلیٰ اور آخرکار وزیر اعلیٰ تک پہنچے۔

دوسری طرف ادھیانِدھی اسٹالن نے اداکار اور پروڈیوسر کے طور پر مقبولیت حاصل کی۔ وہ تمل فلم انڈسٹری کے طاقتور پروڈکشن حلقوں سے جڑے رہے اور بعد میں سیاست میں فعال ہوئے۔

تمل سیاست میں اکثر اداکار وجے اور ادھیانِدھی اسٹالن کے درمیان سیاسی اور ذاتی رقابت کی بات کی جاتی رہی ہے۔ دونوں کی گرفت خاص طور پر شہری نوجوانوں اور فلمی ثقافت سے متاثر طبقات میں مضبوط سمجھی جاتی ہے۔

وجے : ڈیجیٹل دور کا نیا سپر اسٹار ماڈل

اداکار وجے کا سیاسی عروج اسی تاریخی روایت کا جدید ورژن سمجھا جا رہا ہے جس کی شروعات انّا دورئی، کروناندھی اور ایم جی آر کے دور میں ہوئی تھی۔

وجے کی مقبولیت صرف فلموں تک محدود نہیں رہی۔ ان کے فین کلب برسوں سے سماجی سرگرمیوں، راحتی کاموں اور سیاسی اشاروں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ 2024 میں انہوں نے باضابطہ طور پر سیاست میں داخل ہوتے ہوئے کہا کہ سیاست ان کے لیے “عوامی خدمت” کا ذریعہ ہے۔

2026 کے انتخابات میں تملگا ویتری کڑگم (ٹی وی کے) نے قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی۔ چنئی سمیت کئی شہری علاقوں میں پارٹی کی مضبوط کارکردگی نے یہ اشارہ دیا کہ تمل سیاست میں اب ایک تیسری بڑی طاقت ابھر سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وجے نے ایم جی آر کے “عوامی سپر اسٹار ماڈل” کو سوشل میڈیا، ڈیجیٹل مہم، نوجوان ووٹروں اور جدید سیاسی برانڈنگ کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

ہر سپر اسٹار کامیاب نہیں ہوا

تاہم تمل ناڈو کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف فلمی مقبولیت انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔

کمل ہاسن نے اپنی پارٹی بنائی، لیکن انہیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ایم جی آر یا جے للیتا کو ملی تھی۔ رجنی کانت نے طویل عرصے تک سیاسی اشارے دیے، مگر آخرکار مکمل طور پر عملی سیاست میں داخل نہیں ہوئے۔

وجے کانت ضرور ایک وقت میں بڑے سیاسی چہرے بنے اور ان کی پارٹی دیسیا مروپوکّو دراوڑ کڑگم (ڈی ایم ڈی کے) ریاست کی بڑی اپوزیشن طاقت تک بن گئی، لیکن بعد میں ان کا سیاسی اثر کمزور پڑ گیا۔

یعنی تمل ناڈو میں مستقل سیاسی کامیابی کے لیے صرف اسٹارڈم نہیں بلکہ تنظیم، نظریاتی بنیاد، سماجی اتحاد اور درست سیاسی وقت بھی ضروری ہوتا ہے۔

سنیما : تمل سماج کی سیاسی زبان

تمل ناڈو میں سنیما صرف تفریحی صنعت نہیں رہا۔ فلمی مکالمے، گانے، پوسٹر، فین کلب اور اداکار کئی دہائیوں سے سیاسی شعور کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

یہاں فلمی مداحوں کی تنظیمیں اکثر انتخابی مشینری میں بدل جاتی ہیں۔ کئی بار فلمی مکالمے سیاسی تقریروں سے زیادہ اثرانداز ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمل سیاست میں “اسٹار” صرف فنکار نہیں بلکہ ایک ممکنہ سیاسی طاقت بھی سمجھا جاتا ہے۔

وجے کا عروج اگرچہ قومی سیاست کو نیا محسوس ہو سکتا ہے، لیکن تمل ناڈو کے لیے یہ ایک پرانی روایت کا نیا باب ہے ، ایک ایسی روایت جس میں فلمی پردے سے نکلنے والے چہروں نے عوامی جذبات، سماجی تحریکوں اور اقتدار کی سیاست کو گہرائی سے متاثر کیا ہے۔

TamilNadu #TamilNaduPolitics #Vijay #TVK #TamilagaVettriKazhagam #DMK #AIADMK #MGR #Jayalalithaa #Karunanidhi #Annadurai #MKStalin #UdhayanidhiStalin #DravidianPolitics #DravidianMovement #TamilCinema #CinemaAndPolitics #SouthIndiaPolitics #FilmToPolitics #InsaafTimes

“وندے ماترم” کو لازمی قرار دینا غیر آئینی اور مذہبی آزادی پر حملہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے مرکزی حکومت