اسرائیلی میڈیا “ماریو” کی رپورٹ: “ترکی کی حمایت سے الجولانی شامی فوج، میزائل نظام اور فضائیہ کی ازسرِ نو تعمیر کر رہے ہیں”، اسرائیلی فوجی حکام کا دعویٰ “ہمیں اس حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں”، لبنان اور گولان سرحد کو لے کر بے چینی میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا تناؤ تیزی سے جنم لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار “ماریو” نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شام کے نئے حکمراں احمد الجولانی (احمد الشرع) ترکی کی حمایت سے شامی فوج کی تیزی سے ازسرِ نو تنظیم کر رہے ہیں، اور یہ عمل مستقبل میں اسرائیل، خصوصاً گولان ہائٹس، کے لیے “براہِ راست خطرہ” بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی اداروں اور عسکری حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ الجولانی صرف اقتدار کو مستحکم نہیں کر رہے بلکہ فضائیہ، میزائل یونٹس، توپخانے اور بکتر بند فوجی ڈھانچے کو بھی دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوجی حکام نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ “ہمیں اس حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں” اور اسے “شدت پسند اسلامی-جہادی نظریے” کی حامل حکومت قرار دیا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل نے اپنی سرحدوں کے اطراف کسی بھی ممکنہ فوجی طاقت کو ابھرنے سے روکنے کی پالیسی مزید جارحانہ بنا دی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں لبنان کے سنی گروہ، حزب اللہ کے دباؤ کے باعث، الجولانی سے مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس سے شام کی نئی قیادت کو لبنان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے شام کی سرحد پر اضافی فوجی تعیناتی اور نگرانی بھی بڑھا دی ہے۔

تاہم صرف میڈیا رپورٹس ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے کئی اعلیٰ رہنماؤں کے بیانات بھی اس بڑھتے ہوئے تناؤ کو واضح کر رہے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حالیہ مہینوں میں الجولانی کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شام کی سرزمین سے اسرائیل کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو “اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی”۔

ایک اور بیان میں کاٹز نے یہاں تک کہا کہ “ہر صبح جب الجولانی دمشق کے صدارتی محل میں آنکھ کھولے گا تو اسے جبلِ حرمون سے اسے دیکھتے ہوئے اسرائیلی فوجی نظر آئیں گے۔” یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی اور چوکیوں میں توسیع کی تھی۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے تو اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مبینہ طور پر الجولانی کو “ختم کر دینے” کی بات کہی۔ یورپی میڈیا رپورٹس کے مطابق بن گویر نے کہا کہ “ایک بار جہادی، ہمیشہ جہادی” اور الجولانی کو ختم کرنا ہی “واحد حل” ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض مغربی میڈیا اداروں نے جنوبی شام سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے حال ہی میں الزام عائد کیا کہ اسرائیل گولان کے علاقے میں نئی بستیاں اور فوجی توسیع کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تنظیم نے اسے “جنگی جرم” کے زمرے میں آنے والا اقدام قرار دیا۔

اسی دوران بعض رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسرائیل نے شام کی دروز برادریوں اور مقامی ملیشیاؤں کے ساتھ خفیہ روابط اور تعاون میں اضافہ کیا ہے تاکہ جنوبی شام میں اپنے لیے ایک “بفر زون” تیار کیا جا سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الجولانی خود کئی مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ “شام اسرائیل کے خلاف جنگ کے لیے تیار نہیں” اور ان کی ترجیح ملک کی تعمیرِ نو اور پابندیوں کے خاتمے پر مرکوز ہے۔

اس کے باوجود اسرائیلی سیاسی اور عسکری حلقوں میں ان کے تئیں بے اعتمادی مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے۔ کبھی اسرائیل پر شام کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگتے ہیں، تو کبھی اسرائیل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صرف “مستقبل کے خطرات” کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی جغرافیائی و سیاسی کشمکش میں فی الحال اتنا واضح ہے کہ گولان ہائٹس، جنوبی شام اور لبنان کا مثلث آنے والے وقت میں ایک بڑے تصادم کا مرکز بن سکتا ہے، اور اسرائیلی میڈیا میں الجولانی کے حوالے سے بڑھتی بے چینی کو اسی ممکنہ تنازع کی ایک جھلک سمجھا جا رہا ہے۔

Israel #Syria #AhmedAlJolani #AhmadAlShara #GolanHeights #MiddleEast #Turkey #Erdogan #IsraelSyriaTension #IsraeliMedia #Maariv #BenjaminNetanyahu #IsraelKatz #ItamarBenGvir #Hezbollah #Lebanon #Damascus #SyrianArmy #WestAsia #Geopolitics #MiddleEastConflict #InsaafTimes #BreakingNews #WorldNews #HumanRights #Golan #IDF #SyriaNews #IsraelNews #Turkiye

“وندے ماترم” کو لازمی قرار دینا غیر آئینی اور مذہبی آزادی پر حملہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے مرکزی حکومت