2006 کے مالیگاؤں دھماکہ کیس میں حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے پر اب تحقیقاتی اداروں کے کردار اور پوری تفتیشی کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے اس فیصلے کو عدالتی نظام کے لیے “تشویشناک لمحہ” قرار دیتے ہوئے کیس کی ازسرنو تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تقریباً دو دہائی پرانے اس مقدمے میں استغاثہ کا مکمل طور پر ناکام ہونا نہ صرف قانونی ناکامی ہے بلکہ تفتیشی عمل میں سنگین خامیوں اور ممکنہ جانبداری کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر سیتارام کھوئیوال نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی مرحلے میں بے گناہ افراد، خصوصاً مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعد میں مبینہ طور پر دائیں بازو کے شدت پسند گروہوں سے جڑے عناصر کی شمولیت کے اشارے سامنے آئے۔ ان کے مطابق یہ پورا معاملہ نظریاتی بنیادوں پر تشدد اور تفتیشی عمل کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بیان میں مرحوم آئی پی ایس افسر ہیمنت کرکرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی تحقیقات نے کیس کی اصل پرتیں کھولنے کی کوشش کی تھیں۔ اسی طرح سابق خصوصی پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالیان کے ان انکشافات کا بھی حوالہ دیا گیا جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد بعض ملزمان کے خلاف نرمی برتنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
ایس ڈی پی آئی نے سوال اٹھایا کہ کیا تحقیقاتی ایجنسیاں واقعی مکمل طور پر آزاد تھیں یا سیاسی دباؤ نے تفتیش کی سمت کو متاثر کیا۔ پارٹی کے مطابق شواہد کی کمزوری، تحقیقات میں تاخیر اور استغاثہ کی ناکامی ایک ایسے منظم پیٹرن کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مالیگاؤں دھماکہ کیس کی وقت مقررہ اور عدالتی نگرانی میں دوبارہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مکمل حقیقت سامنے آ سکے اور قانون کے مطابق ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نظریے یا سیاسی تحفظ سے ہو۔
ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے اور اس پورے معاملے کی سچائی عوام کے سامنے آنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔