بہار بورڈ دسویں جماعت کا نتیجہ 2026: بیٹیوں کا غلبہ، پُشپانجلی اور صبرین نے تاریخ رقم کر دی

بہار کے لاکھوں طلبہ کے لیے انتظار کی گھڑی بالآخر ختم ہو گئی، جب بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ نے جماعت دہم (میٹرک) امتحان 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ اس سال کا نتیجہ کئی اعتبار سے خاص رہا—نہ صرف کامیابی کا تناسب اطمینان بخش رہا بلکہ ٹاپرز کی فہرست میں طالبات کا غلبہ واضح طور پر نظر آیا۔

ٹاپ پر بیٹیاں، دو نے مشترکہ طور پر پہلا مقام حاصل کیا

اس بار کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ دو طالبات—جمُوئی کی پُشپانجلی کماری اور ویشالی کی صبرین پروین—نے 492 نمبر (98.4 فیصد) حاصل کر کے مشترکہ طور پر ریاست میں پہلا مقام حاصل کیا۔ یہ صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ بہار کے بدلتے ہوئے تعلیمی منظرنامے کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں بیٹیاں مسلسل نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔

دوسرے مقام پر بیگوسرائے کی ناہِد سلطانہ رہیں، جنہوں نے 489 نمبر (97.8 فیصد) حاصل کیے۔ تیسرے مقام پر بُکسر کی انوپا کماری اور بیگوسرائے کے اوم کمار نے 488 نمبر (97.6 فیصد) کے ساتھ مشترکہ طور پر جگہ بنائی۔

ٹاپ پانچ میں کئی اضلاع کی نمائندگی

اس بار ٹاپرز کی فہرست میں بہار کے مختلف اضلاع کی وسیع نمائندگی دیکھنے کو ملی۔ چوتھے اور پانچویں مقام پر کئی طلبہ نے مشترکہ طور پر جگہ بنائی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیم کا معیار اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ چھوٹے اضلاع اور قصبوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔

لڑکیوں نے پھر ماری بازی

نتائج کے اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ کل 81.79 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے، جن میں 6,34,353 طالبات اور 6,01,390 طلبہ شامل ہیں۔ طالبات کی یہ بہتر کارکردگی گزشتہ چند برسوں سے جاری رجحان کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

ریکارڈ وقت میں نتیجہ، بڑھا اعتماد

اس سال تقریباً 15.10 لاکھ امیدواروں نے امتحان دیا۔ امتحانات 17 فروری سے 25 فروری کے درمیان منعقد ہوئے، جبکہ جوابی کاپیوں کی جانچ 2 مارچ سے 13 مارچ کے درمیان مکمل کر لی گئی۔ اس کے بعد محض 16 دنوں میں نتائج کا اعلان کر دیا گیا، جو بورڈ کی تیز اور منظم کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

پریس کانفرنس میں اعلان

نتائج کا اعلان ریاست کے وزیرِ تعلیم سنیل کمار اور بورڈ کے چیئرمین آنند کشور نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کے ذریعے کیا۔ اس موقع پر ٹاپرز، کامیابی کا تناسب اور دیگر اہم اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے۔

وقت کی پابندی بنی پہچان

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال بھی نتائج 29 مارچ کو ہی جاری کیے گئے، جیسا کہ گزشتہ سال ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہار بورڈ اب ایک مقررہ وقت کے اندر کام مکمل کرنے کی مضبوط روایت قائم کر چکا ہے۔

اب آگے کیا؟

میٹرک کے بعد طلبہ کے سامنے نئے مواقع کھل جاتے ہیں—انٹرمیڈیٹ میں مضامین کا انتخاب، پولی ٹیکنک، آئی ٹی آئی یا دیگر پیشہ ورانہ کورسز۔ ماہرین کے مطابق یہ وہ مرحلہ ہے جہاں درست فیصلہ طلبہ کے مستقبل کی سمت طے کرتا ہے۔

یہ نتیجہ صرف نمبروں کا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے بہار کی تصویر کا آئینہ بھی ہے—جہاں محنت، مواقع اور تبدیلی ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور