عالمی یوم خواتین کے موقع پر ریاستی جبر کے خلاف مہم (سی۔اے۔ایس۔آر) نے بھارت میں یو۔اے۔پی۔اے جیسے سخت قوانین کے تحت طویل عرصے سے قید خواتین سیاسی قیدیوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین کو فوری رہا کیا جائے، ان کی طبی سہولتیں یقینی بنائی جائیں، اور غیر قانونی گرفتاریوں اور سیاسی دباؤ کو روکا جائے۔ سی۔اے۔ایس۔آر نے خبردار کیا کہ کئی خواتین سالوں سے بغیر مقدمے کے قید ہیں، جس سے عدل کے بنیادی اصول “ملزم کو قصوروار ثابت ہونے تک بے قصور مانا جائے” کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
قید میں صحت کے مسائل
کشمیری خاتون سرگرم کارکن آسیہ اندرابی، صوفی فہمیدہ، اور ناہیدہ نصیرین کو 2018 سے قید رکھا گیا ہے۔ ان کے خاندانوں کے مطابق انہیں ضروری ادویات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں، جس سے ان کی صحت سنگین خطرے میں ہے۔
آسیہ اندرابی ذیابیطس، دمہ اور گٹھیا جیسی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نصیرین بھی متعدد طبی پیچیدگیوں سے دوچار ہیں۔ سی۔اے۔ایس۔آر نے کہا کہ یہ واضح اشارہ ہے کہ یو۔اے۔پی۔اے کا غلط استعمال سیاسی اختلاف رائے اور انسانی حقوق کی تحریکوں کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
قیدیوں کی فہرست اور طویل قید کی مدت
آسیہ اندرابی – 8 سال
صوفی فہمیدہ – 8 سال
ناہیدہ نصیرین – 8 سال
وکیل بیلللہ پدما – 2 سال 9 ماہ (انڈر ٹرائل)
بندا سونا – 2 سال (انڈر ٹرائل)
پربھا – 2 سال 6 ماہ (انڈر ٹرائل)
سونیتا پوتام – 1 سال 9 ماہ (انڈر ٹرائل)
اور دیگر کئی خواتین قیدی
سی۔اے۔ایس۔آر نے کہا کہ یہ خواتین زیادہ تر قبائلی اور دیہی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں اور خواتین کے حقوق، زمین کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے سرگرم رہی ہیں۔
سی۔اے۔ایس۔آر کے چار مطالبات
یو۔اے۔پی۔اے اور دیگر سخت قوانین کے تحت قید تمام خواتین سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی۔
2.تمام قیدیوں کے لیے فوری اور مناسب طبی سہولتیں۔
3.اختلاف رائے اور جمہوری سرگرمیوں کو دبانے کے لیے قانونی دباؤ کا خاتمہ۔
4.تمام مقدمات میں فوری، منصفانہ اور شفاف عدالتی عمل۔
سی۔اے۔ایس۔آر نے جمہوری اداروں، خواتین کی تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان خواتین کے حقوق اور وقار کی حفاظت کے لیے آواز بلند کریں۔
سی۔اے۔ایس۔آر نے کہا، “عالمی یوم خواتین کے موقع پر پیغام یہ ہونا چاہیے کہ تمام خواتین سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر آزاد کیا جائے، یو۔اے۔پی۔اے کے غلط استعمال کو ختم کیا جائے، اور جمہوری حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔”