غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر جماعتِ اسلامی ہند (جے آئی ایچ) نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے جمعہ کو جاری بیان میں گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ سنگین انسانی المیے سے دوچار ہے۔
میڈیا کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے مختلف عہدیدار غزہ کی صورتحال پر سنگین تبصرے کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں بھارت کی جانب سے واضح اور ٹھوس پیغام کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے عوامی پروگراموں اور اسرائیلی قیادت کے ساتھ معمول کی سفارتی گرمجوشی نے ملک کے ایک بڑے طبقے کو مایوس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی عالمی شناخت انصاف، انسانی حقوق اور مظلوموں کی حمایت سے وابستہ رہی ہے۔ بھارت نے تاریخی طور پر نسلی امتیاز، نوآبادیاتی قبضے اور رنگ بھید کی مخالفت کی ہے۔ اس تناظر میں غزہ کی موجودہ صورتحال پر متوازن اور واضح مؤقف کی امید فطری تھی۔
صدر جے آئی ایچ نے مزید کہا کہ فلسطینی مسئلہ محض جغرافیائی سیاست کا سوال نہیں بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی معاملہ ہے۔ بھارت کی آزادی کی جدوجہد خود نوآبادیاتی جبر کے خلاف ایک اخلاقی جدوجہد تھی، اور اسی ورثے نے ملک کو عالمی سطح پر وقار بخشا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے اعادہ کیا کہ جماعتِ اسلامی ہند فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مؤقف آفاقی انصاف اور انسانی وقار کے اصولوں پر مبنی ہے۔
بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی طاقت صرف اس کی عسکری یا معاشی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس کی اخلاقی ساکھ میں بھی مضمر ہے، جسے ہر حساس بین الاقوامی معاملے پر برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔