بھارت کے شہروں اور دیہی علاقوں میں ذات اور مذہب کی بنیاد پر رہائشی علیحدگی گہری ہوتی جا رہی ہے، جس کے براہِ راست اثرات تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر پڑ رہے ہیں۔ امریکا میں قائم تحقیقی ادارے نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کے ایک نئے تحقیقی مسودے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔
“بھارت میں رہائشی علیحدگی اور مقامی عوامی خدمات تک غیر مساوی رسائی” کے عنوان سے جاری اس مطالعے میں ملک کے تقریباً پندرہ لاکھ شہری و دیہی محلّوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق درج فہرست ذاتوں اور مسلم برادری کو مقامی عوامی خدمات تک نسبتاً کم اور کمزور رسائی حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً چھبیس فیصد مسلم آبادی ایسے محلّوں میں رہتی ہے جہاں اسی فیصد سے زائد باشندے مسلمان ہیں۔ اسی طرح قریب سترہ فیصد درج فہرست ذاتوں کی آبادی ایسے علاقوں میں مقیم ہے جہاں اسی فیصد سے زیادہ رہائشی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
مطالعے میں پایا گیا کہ درج فہرست ذاتوں کی علیحدگی دیہی اور شہری علاقوں میں تقریباً یکساں ہے، جب کہ مسلم برادری میں شہری علیحدگی زیادہ گہری ہے۔ محققین نے اس صورت حال کا موازنہ امریکا میں نسلی علیحدگی سے کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تیزی سے پھیلتے شہر بھی روایتی سماجی تقسیم کو دہرا رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق درج فہرست ذاتوں اور مسلم اکثریتی علاقوں میں ثانوی اسکولوں، اسپتالوں اور صحت مراکز کی دستیابی کم ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے پانی، نکاسیٔ آب کے نظام اور باقاعدہ بجلی کنکشن جیسی بنیادی سہولیات بھی دیگر علاقوں کے مقابلے میں کمزور پائی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فرق شماریاتی طور پر نمایاں ہے اور اسے محض آمدنی کی سطح سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک ہی شہر کے اندر یکساں معاشی حیثیت رکھنے والے علاقوں کے موازنے سے بھی سماجی شناخت کی بنیاد پر خدمات تک رسائی میں فرق سامنے آیا۔
مطالعے میں “محلہ اثر” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شدید طور پر علیحدہ محلّوں میں پرورش پانے والے بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سو فیصد مسلم آبادی والے محلّے میں رہنے والا بچہ، صفر فیصد مسلم آبادی والے علاقے کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً دو سال کم تعلیم حاصل کرتا ہے۔ درج فہرست ذاتوں کے اکثریتی علاقوں میں بھی بچوں کو تعلیمی نقصان کا سامنا رہتا ہے۔
تحقیق کا اندازہ ہے کہ شہری علاقوں میں درج فہرست ذاتوں اور مسلم بچوں کے درمیان تعلیمی فرق کا تقریباً نصف حصہ محلّے کے اثر سے جڑا ہوا ہے۔
محققین نے رہائشی علیحدگی کے اسباب میں سماجی ترجیحات، معاشی رکاوٹوں اور رہائشی منڈی میں امتیازی سلوک کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عوامی خدمات کی کم دستیابی کو ان برادریوں کی کم طلب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ سیاسی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جامع شہری منصوبہ بندی اور خدمات کی مساوی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ محققین کے مطابق اگر بھارت کو سماجی انصاف اور مساوی مواقع کو یقینی بنانا ہے تو رہائشی علیحدگی اور اس سے جڑی خدماتی ناہمواریوں کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔