بنجامن نیتن یاہو نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ اسرائیل کو ایک وسیع اسٹریٹجک پیش رفت کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ “انتہا پسند سنی اور شیعہ محوروں” کے خلاف ایک نئے علاقائی اتحاد کی تشکیل کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
کابینہ اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایسے ممالک کے ایک گروپ کی تیاری پر کام کر رہا ہے جو علاقائی عدم استحکام اور شدت پسند قوتوں کے خلاف مشترکہ وژن رکھتے ہوں۔ انہوں نے اس ممکنہ ڈھانچے کو “اتحاد” کا نام دیا، جس میں بھارت کے علاوہ یونان، قبرص اور بعض عرب و افریقی ممالک کی شمولیت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو نے بھارت کو “ابھرتی ہوئی عالمی طاقت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے ساتھ تعلقات محض دوطرفہ تعاون تک محدود نہیں بلکہ وہ علاقائی اور عالمی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
امکان ہے کہ وزیرِاعظم مودی کے دورے کے دوران دفاع، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، زرعی ٹیکنالوجی اور تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور تکنیکی تعاون پہلے ہی مضبوط سمجھا جاتا ہے۔
وزیرِاعظم مودی نے نیتن یاہو کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارت۔اسرائیل تعلقات کو “مضبوط اور ہمہ جہت شراکت داری” قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک امن، جدت اور ترقی کے مشترکہ اہداف کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کو “شیعہ محور” کے طور پر دیکھتا رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں خطے میں بعض سنی قوتوں کی سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔
بھارت، جو روایتی طور پر “اسٹریٹجک خودمختاری” کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے، ایک جانب اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا ہے تو دوسری جانب خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بھی متوازن روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں مجوزہ اتحاد کی نوعیت اور اس میں بھارت کے کردار پر سفارتی حلقوں کی گہری نظر ہے۔
اگرچہ “اتحاد” کی باضابطہ ساخت اور رکن ممالک کے بارے میں ابھی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم نیتن یاہو کے بیان سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی اسٹریٹجک ترتیب میں بھارت کو ایک اہم کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مودی کا یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ وسیع تر علاقائی توازن پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔