شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران 23 سالہ فیضان کی موت سے متعلق معاملے میں چھ برس بعد دہلی کی ایک عدالت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دہلی پولیس کے دو اہلکاروں کو سمن جاری کیے ہیں۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) میانک گوئل نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ پر نوٹس لیتے ہوئے ہیڈ کانسٹیبل رویندر کمار اور کانسٹیبل پون یادو کو 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت نے 4 فروری 2026 کے اپنے حکم میں کہا کہ ریکارڈ پر دستیاب مواد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 323 (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا)، دفعہ 325 (سنگین چوٹ پہنچانا) اور دفعہ 304(II) (غیر ارادی قتل) کو دفعہ 34 کے ساتھ نافذ کرنے کے لیے بادی النظر میں مناسب بنیاد موجود ہے۔
یہ معاملہ سال 2020 میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں کچھ مسلم نوجوانوں کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئے اور زبردستی قومی ترانہ اور ’وندے ماترم‘ گانے پر مجبور کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں فیضان بھی شامل تھا، جس کی بعد میں موت ہو گئی۔
فیضان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ فسادات کے دوران اسے شدید چوٹیں آئیں، تاہم اسے بروقت اور مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیضان کو جیوتی نگر تھانے میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور علاج میں لاپروائی برتی گئی، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔
یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تھا۔ جولائی 2024 میں فیضان کی والدہ قسمتون کی عرضی پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کی تفتیش کو “سست اور سطحی” قرار دیا تھا۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبانی نے کہا تھا کہ یہ معاملہ بادی النظر میں ہیٹ کرائم کے زمرے میں آتا ہے اور چونکہ ملزمان خود تفتیشی ایجنسی کا حصہ تھے، اس لیے غیر جانبدارانہ تفتیش پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ بھی کیا تھا کہ جب قانون نافذ کرنے والے خود قانون شکنی کے ملزم ہوں اور وہی تفتیش کریں، تو اس سے تفتیش کی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے۔ اس کے بعد تفتیش دہلی پولیس سے واپس لے کر سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔
سی بی آئی نے 6 اگست 2024 کو ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد ایجنسی نے دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس پر اب عدالت نے نوٹس لیا ہے۔
اس سے قبل فروری 2025 میں کڑکڑڈوما کورٹ نے جیوتی نگر تھانے کے اس وقت کے تھانہ انچارج کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
معاملے کی اگلی سماعت 24 فروری کو ہوگی، جب دونوں ملزم پولیس اہلکاروں کو عدالت میں حاضر ہونا ہے۔