بہار کے ضلع کھگڑیا میں پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد اس کے بے رحمانہ قتل نے پورے علاقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد انصاف کے مطالبے کو لے کر اٹھنے والا عوامی احتجاج 8 جنوری کو پرتشدد رخ اختیار کر گیا، جب سیکڑوں مظاہرین نے کھگڑیا کلیکٹریٹ کا گھیراؤ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی۔
تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچنے کے بعد پولیس و انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے آر جے ڈی کے ایک رہنما سمیت 14 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ 82 نامزد اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مظاہرین کا الزام تھا کہ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کر کے شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی اور ابتدائی مرحلے میں پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں نے ملزم کو فوری اور سخت سزا دینے کے ساتھ متعلقہ تھانہ انچارج کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہی احتجاج بعد میں شدت اختیار کر کے تشدد میں بدل گیا۔
الزام ہے کہ مظاہرین زبردستی کلیکٹریٹ کے اجلاس ہال میں داخل ہوئے، افسران کی کرسیوں پر بیٹھ کر نعرے بازی کی اور کچھ وقت کے لیے کچہری روڈ کو جام کر دیا۔ انتظامیہ کی مداخلت اور سمجھائش کے بعد حالات پر قابو پایا گیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ راکیش کمار کے مطابق، چترگپت نگر تھانہ میں درج ایف آئی آر میں پوکسو ایکٹ سمیت سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھیڑ کو منظم طریقے سے اکٹھا کیا گیا تھا اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
گرفتار شدگان میں آر جے ڈی کے سابق ایم ایل اے چندن رام کے بھائی پنٹو رام اور یوتھ آر جے ڈی کے ریاستی جنرل سیکریٹری نیرج کمار شامل ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کچھ سیاسی عناصر نے حالات کو بگاڑنے میں کردار ادا کیا۔
ڈیوٹی میں لاپروائی کے الزام میں آٹھ پولیس اہلکاروں اور ایک چوکیدار کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ چار تھانہ انچارجز سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ایس پی کے مطابق مرکزی ملزم کو واقعے کے محض 10 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم افواہوں اور عوامی عدم اعتماد کے باعث حالات کشیدہ ہو گئے۔
متاثرہ بچی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے صدر سب ڈویژنل پولیس افسر مکل کمار رنجن کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ قصورواروں کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گنگور تھانہ علاقے کے ایک گاؤں سے بچی 7 جنوری کو لاپتہ ہوئی تھی، جبکہ اگلے روز اس کی لاش سرسوں کے کھیت سے برآمد ہوئی۔ اس سانحے نے پورے ضلع میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ راکیش کمار نے واضح کیا کہ مجرم کو سخت سزا دلانے کا عمل جاری ہے، لیکن تشدد، توڑ پھوڑ اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک جانب سماج کو جھنجھوڑ دینے والے سنگین جرم کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ انصاف کا مطالبہ جب تشدد میں بدل جائے تو وہ قانون و نظم کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔