بہار میں غیر امداد یافتہ اساتذہ کے حوالے سے نتیش حکومت کا بڑا فیصلہ! چیف سکریٹری کی صدارت میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم، تنخواہی ڈھانچے اور ادائیگی کے نظام کا کرے گی جائزہ

انصاف ٹائمس ڈیسک

انتخابی سال میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مالی امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ اساتذہ و غیر تدریسی عملے کے مفاد میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اساتذہ کے تنخواہی ڈھانچے، مشاہرے، گرانٹ اور ادائیگی سے متعلق تمام بے ضابطگیوں کا باقاعدہ جائزہ لے گی۔

نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر ’’اساتذہ کے لیے بڑی خوشخبری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب غیر امداد یافتہ اساتذہ کے تنخواہی مسائل سمیت تمام معاملات پر ٹھوس کارروائی ہوگی۔

تعلیم محکمہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی صدارت ریاست کے چیف سیکریٹری کریں گے۔ اس میں ڈویلپمنٹ کمشنر، تعلیم محکمہ، عام انتظامیہ محکمہ اور مالیات محکمہ کے اعلیٰ افسران، بہار اسکول امتحان کمیٹی کے چیئرمین، اقلیتی فلاح محکمہ کے سکریٹری، جبکہ ثانوی و ابتدائی تعلیم کے ڈائریکٹرز ممبر ہوں گے۔ تعلیم محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کو ممبر سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کمیٹی کی میٹنگ ہر ماہ منعقد ہوگی۔

کمیٹی کی ذمہ داریاں

معاون گرانٹ کا بروقت اجراء

غیر امداد یافتہ اساتذہ کے تنخواہی ڈھانچے/مشاہرے کا تعین

تنخواہ کی ادائیگی میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کا حل

تعلیمی اداروں سے متعلق انتظامی معاملات کا جائزہ

حکومت کو اصلاحی تجاویز پیش کرنا

اعداد و شمار کے مطابق بہار کے 225 غیر امداد یافتہ ڈگری کالجز میں تقریباً 15 ہزار اساتذہ و ملازمین کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح 625 ہائی اسکول اور 599 انٹر کالجز میں تقریباً 25 ہزار سے زائد اساتذہ و ملازمین کی تعیناتی ہے۔ اس فیصلے سے براہِ راست 40 ہزار سے زیادہ تعلیمی کارکنان کو راحت ملنے کی امید ہے۔

اساتذہ تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات صرف کاغذوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک تنخواہوں اور گرانٹ کی ادائیگی بروقت اور شفاف انداز میں نہیں ہوگی، تب تک اصل فائدہ ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق انتخابی سال میں لیا گیا یہ فیصلہ سیاسی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ تاہم غیر امداد یافتہ اساتذہ کو تنخواہ دینے سے ریاست پر بھاری مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں کمیٹی کے پہلے اجلاس اور حکومت کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور