انصاف ٹائمس ڈیسک
دہلی ہائی کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ ایسی فلموں کو سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا سکتا جو مذاہب کا مذاق اڑاتی ہوں، نفرت پھیلاتی ہوں یا سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہوں۔ عدالت نے کہا کہ بھارت جیسے متنوع اور سیکولر ملک میں اس طرح کے مواد کو فروغ دینا غیر آئینی ہے۔
یہ ریمارکس جسٹس منیت پریتم سنگھ اروڑا نے فلم ساز شیام بھارتی کی درخواست خارج کرتے ہوئے دیے۔ بھارتی نے اپنی ہندی فلم “معصوم قاتل” کو منظوری نہ دینے کے CBFC کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ فلم کا مواد لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے اکساتا ہے۔ اس میں انتہائی پرتشدد اور ہولناک مناظر دکھائے گئے ہیں، جو معاشرے کو ظالمانہ بنا سکتے ہیں اور غیر قانونی رجحانات کو معمول بنا سکتے ہیں۔ جسٹس اروڑا نے دوٹوک کہا “فلموں کا کام معاشرے کو جوڑنا ہے، نہ کہ بانٹنا۔ ایسے مواد کو کسی بھی صورت میں عوامی پلیٹ فارم پر جگہ نہیں دی جا سکتی۔”
واضح ہو کہ CBFC نے فلم میں کئی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں شامل ہیں:
انسانوں اور جانوروں پر انتہائی پرتشدد اور ہولناک مناظر۔
مذہب اور ذات پر توہین آمیز تبصرے۔
برادریوں کو نیچا دکھانے والے مکالمے۔
نابالغ کرداروں کو تشدد اور جرائم میں ملوث دکھانا۔
فلم ساز نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ فلم کو ’ایڈلٹ‘ سرٹیفکیٹ اور کچھ کٹوتیوں کے ساتھ ریلیز کرنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن ہائی کورٹ نے CBFC کی رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ فلم کا مواد “اتنا قابلِ اعتراض اور مذموم ہے کہ اس میں کسی بھی طرح کی اصلاح ممکن نہیں۔”
عدالت کے اس حکم نے واضح کر دیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے احترام کے باوجود، مذہبی جذبات کی توہین، سماجی نفرت اور سفاکانہ تشدد پر مبنی مواد کو کسی بھی شکل میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔