بہار میں ۲۰۲۵ کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی بھاری جیت کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آیا حکومت اب شراب بندی قانون پر نظرِ ثانی کرے گی یا نہیں۔ محصولات میں خسارے اور نفاذ سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے درمیان حکومت نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی معاون اور پارلیمانی امور کے وزیر وجے چودھری نے صاف کہا ہے کہ شراب بندی قانون میں کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر نے کہا کہ جب سال ۲۰۱۶ میں بہار ایکسائز ممانعتِ شراب قانون نافذ کیا گیا تھا تو حکومت کو محصولات میں ممکنہ نقصان کا مکمل اندازہ تھا۔ انہوں نے کہا “محصولات کے نقصان کو جانتے ہوئے بھی یہ قانون سماجی اصلاح کے مقصد سے نافذ کیا گیا۔ شراب نوشی ایک جرم ہے اور اسے سماجی برائی سمجھتے ہوئے ہی حکومت نے یہ قدم اٹھایا تھا۔”
وجے کمار چودھری نے کہا کہ شراب بندی کو محض محصولات کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے اس فیصلے میں سماجی اور خاندانی اثرات کو مدنظر رکھا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محصولات کے خسارے کے باوجود ریاست نے ترقی کے مختلف اشاریوں پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
تاہم این ڈی اے کے اندر سے وقتاً فوقتاً قانون پر نظرِ ثانی کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ بجٹ اجلاس کے دوران آر ایل ایم کے رکنِ اسمبلی مادھو آنند نے وزیرِ اعلیٰ سے شراب بندی کے نفاذ کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔
دوسری جانب این ڈی اے کے اہم اتحادی اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ قانون کا مقصد قابلِ تعریف ہے، لیکن اس کے نفاذ میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بے قصور افراد کے خلاف کارروائی اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتیں مسلسل الزام لگاتی رہی ہیں کہ ریاست میں غیر قانونی شراب کا کاروبار جاری ہے اور اسمگلنگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محصولات کے نقصان کی تلافی کے لیے حکومت کو دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
سیاسی حلقوں میں خواہ کتنی ہی بحث کیوں نہ ہو، حکومت کا سرکاری موقف واضح ہے کہ شراب بندی قانون برقرار رہے گا۔ وزیر وجے کمار چودھری کے بیان سے یہ اشارہ مل گیا ہے کہ نتیش حکومت اپنی اس اہم پالیسی سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے۔