آخر امید بھی ختم: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہرمز کھولنے کی قرارداد ناکام، روس اور چین نے ویٹو لگا دیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد ناکام ہو گئی۔ روس اور چین نے اس پر ویٹو لگا دیا، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی آخری سفارتی امیدیں بھی ختم ہو گئیں اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔

ہرمز بحران کی اہمیت اور پس منظر

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے تقریباً بیس فیصد عالمی تیل اور گیس کا تجارتی سفر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی فوجی کارروائی کے بعد ایران نے اس آبنائے میں جہازوں کی آمد و رفت کو محدود کر دیا۔ اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں توانائی کی مارکیٹس پر دباؤ بڑھ گیا اور تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد

بحرین نے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تاکہ تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ قرارداد کے بنیادی نکات یہ تھے:

جہازوں کے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا

بین الاقوامی سمندری سلامتی کو فروغ دینا

کشیدہ حالات میں جنگ کے خطرات کو کم کرنا

ابتدائی مسودے میں طاقت کے استعمال کی ہدایات شامل تھیں، جسے روس اور چین نے رد کر دیا۔ نتیجتاً ایک نرم شدہ مسودہ منظور ہوا، جس میں صرف دفاعی تعاون اور جہازوں کی حفاظت پر زور دیا گیا، جبکہ کسی قسم کی فوجی کارروائی کی اجازت شامل نہیں تھی۔

ووٹنگ اور ویٹو

7 اپریل 2026 کو قرارداد پر ووٹنگ ہوئی:

گیارہ ممالک نے حمایت کی

روس اور چین نے ویٹو لگایا

دو ممالک نے ووٹ دینے سے پرہیز کیا

سلامتی کونسل کے قواعد کے مطابق اگر کوئی مستقل رکن ویٹو کرے تو قرارداد منظور نہیں ہو سکتی، چاہے اکثریت نے اس کی حمایت کی ہو۔

روس اور چین کا موقف

روس اور چین کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد ممکنہ فوجی کارروائیوں کو بڑھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی کا حل صرف سفارتی مذاکرات اور جنگ بندی کے ذریعے ہونا چاہیے۔

امریکہ اور اتحادیوں کا ردعمل

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ہرمز کی بندش کو عالمی توانائی اور تجارت کے لیے خطرناک قرار دیا۔ امریکی حکام نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے تاکہ بین الاقوامی تجارت معمول پر آ سکے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی

اس بحران نے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران نے کہا کہ اگر اس کی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھے گا۔ اس دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان میزائل حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

عالمی سطح پر اثرات

تیل کی قیمتوں میں تیزی

غذائی اور زرعی سپلائی پر دباؤ

بحری جہازوں کے بیمہ اخراجات میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی توانائی، خوراک اور مالیاتی منڈیوں پر اثر ڈالنے والا سنگین مسئلہ ہے۔

آئندہ کے امکانات

سلامتی کونسل میں ویٹو سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں تقسیم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششیں تیز کرنا ضروری ہیں، ورنہ ہرمز کی غیر مستحکم صورتحال عالمی توانائی اور اقتصادی استحکام پر سنگین اثر ڈال سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز جزوی طور پر بند ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکی۔ روس اور چین نے اپنی عالمی سفارتی پوزیشن واضح کر دی ہے اور اس بحران کے اثرات عالمی تیل، تجارت اور اقتصادی بازاروں پر نمایاں ہیں۔

آخر امید بھی ختم: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہرمز کھولنے کی قرارداد ناکام، روس اور چین نے ویٹو لگا دیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی

پٹنہ میں 3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی: بچی کا چچا سومیش اور ساتھی جتیندر گرفتار، تیسرے ملزم کی شناخت کے بعد تلاش تیز

بہار دارالحکومت پٹنہ میں ایک انتہائی حساس اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک