جیوتِر پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند کے خلاف بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے تحت مقدمہ درج، پولیس تفتیش تیز

جیوتِر پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات میں مقدمہ درج ہونے کے بعد اتر پردیش کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ خصوصی پوکسو عدالت کے حکم پر جھونسی تھانے میں ابتدائی رپورٹ درج کی گئی۔ پولیس کی ایک ٹیم پریاگ راج سے وارانسی پہنچ چکی ہے اور ضرورت کے مطابق پوچھ گچھ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ تفتیش کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

معاملہ اس وقت عدالت پہنچا جب شکایت گزار، شکمبری پیٹھادھیشور آشوتوش برہمچاری مہاراج نے الزام عائد کیا کہ ان کی سابقہ شکایت پر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے ۲۴ جنوری کو پریاگ راج کے پولیس کمشنر کو درخواست دی تھی۔ بعد ازاں خصوصی پوکسو عدالت سے رجوع کیا گیا، جس کے حکم پر ۲۱ فروری کی رات مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ابتدائی رپورٹ میں سوامی کے ساتھ ان کے شاگرد مکندانند برہمچاری اور بعض نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ الزامات جنوری ۲۰۲۵ سے فروری ۲۰۲۶ کے درمیان پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق بتائے گئے ہیں۔ مقدمہ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

اتوار کو پولیس حکام نے شکایت گزار کے ہمراہ ماگھ میلہ علاقے کا دورہ کیا، جہاں شنکراچاریہ کا کیمپ قائم تھا۔ ٹیم نے مقامِ وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے داخلی و خارجی راستوں کا نقشہ تیار کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ممکنہ شواہد اور حالات و قرائن کی جانچ کی جا رہی ہے۔

وارانسی میں واقع اپنے آشرم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوامی اویمکتیشورانند نے الزامات کو “من گھڑت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “میں کہیں نہیں جا رہا۔ پولیس جو بھی سوال کرے گی، اس کا جواب دوں گا۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن بچوں کا نام شکایت میں لیا گیا ہے، وہ ان کے گروکل کے طلبہ نہیں رہے۔ “وہ ہمارے یہاں پڑھے ہی نہیں۔ جب وہ یہاں آئے ہی نہیں تو الزامات کیسے درست ہو سکتے ہیں؟” سوامی نے مزید کہا کہ آشرم کے احاطے میں نگرانی کے کیمرے نصب ہیں، جن سے حقیقت سامنے آ جائے گی۔

سوامی نے تفتیش کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریاستی پولیس پر اعتماد نہیں اور تحقیقات کسی دوسری ریاستی ایجنسی سے کرائی جانی چاہئیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ جانچ میں مکمل تعاون کریں گے۔

معاملے پر سیاسی بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی شخصیات کے خلاف ایسے معاملات کے وسیع سماجی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سوامی کی قانونی ٹیم الہ آباد ہائی کورٹ سے پیشگی ضمانت یا گرفتاری سے تحفظ کے لیے درخواست دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پیر کے روز قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ عدالت کے حکم کی تعمیل میں درج کیا گیا ہے اور تفتیش قانونی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔ آئندہ دنوں میں پوچھ گچھ اور شواہد جمع کرنے کا عمل تیز ہونے کا امکان ہے۔

سیمانچل کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے وزیرِ داخلہ سے مداخلت کی اپیل کی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بہار کے سیمانچل خطے کو خصوصی درجہ دینے کا

شراب بندی پر قائم نتیش حکومت، وزیر وجے کمار چودھری بولے “محصولات سے بڑا سماجی مفاد”

بہار میں ۲۰۲۵ کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی بھاری جیت کے بعد

جیوتِر پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند کے خلاف بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے تحت مقدمہ درج، پولیس تفتیش تیز

جیوتِر پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات