سیاسی

سیاسی
لکھنؤ میں ایس.ڈی.پی.آئی کا انتخابی طاقت کا مظاہرہ: قومی قیادت نے کارکنان میں بھری نئی توانائی، یوپی انتخابات کے لیے بوتھ سے میڈیا تک حکمتِ عملی پر غور و خوض

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں جمعرات کے روز سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنی

سیاسی
بہار میں این ڈی اے کابینہ توسیع: سمراٹ چودھری حکومت میں 32 نئے وزراء کی شمولیت، ای بی سی، دلت اور او بی سی توازن پر بڑا زور، نشانت کمار کی انٹری سے جانشینی کی سیاست تیز، پٹنہ کے گاندھی میدان میں وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں شاندار حلف برداری تقریب

بہار کی سیاست نے جمعرات کے روز ایک نیا موڑ اختیار کر لیا۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے پہلے

سیاسی
کیرالہ میں بائیں بازو کے محاذ کی شکست کے ساتھ بھارت میں کمیونسٹ سیاست اپنے سب سے کمزور دور میں داخل، پانچ دہائیوں بعد ملک میں کوئی بھی بائیں بازو کا وزیرِ اعلیٰ نہیں ہوگا۔

کیرالہ میں بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کی شکست کے ساتھ ہی بھارتی سیاست میں ایک تاریخی باب تقریباً اختتام کی طرف

سیاسی
بنگال بی.جے.پی کا بائیں بازو کے اتحاد سے وابستہ جماعت ایس.ڈی.پی.آئی پر پی.ایف.آئی سے تعلق کا الزام، حقیق الاسلام کا جواب “الیکشن کمیشن پہلے ہی ان دعوؤں کی تردید کر چکا ہے”؛ تمل ناڈو میں ڈی.ایم.کے، کانگریس اور سی.پی.آئی.ایم کے ساتھ ایس.ڈی.پی.آئی کے اتحاد پر بھی بحث جاری

مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے درمیان سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کو لے کر ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا ہو

سیاسی
بھاکپا–مالے اور آل انڈیا پروگریسیو ویمنز ایسوسی ایشن کا بہار بھر میں احتجاج: خواتین ریزرویشن پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ‘گمراہ کن پروپیگنڈہ’ کے خلاف کارکن سڑکوں پر، ‘کوٹے کے اندر کوٹا’ کے ساتھ فوری نفاذ کا مطالبہ

خواتین کے ریزرویشن کے مسئلے پر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ بھاکپا–مالے اور آل انڈیا پروگریسیو ویمنز ایسوسی ایشن کی اپیل پر جمعہ کے روز

سیاسی
کٹنی میں ۱۶۷ معصوم بچوں کی ۱۳ دن کی حراست کو ایس ڈی پی آئی نے “انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا، بہار حکومت کی خاموشی پر اٹھائے سوال؛ ساتھ ہی ریاست پر بڑھتے قرض کو لے کر کہا “ہر روز ۱۰۰ کروڑ روپے سود، ترقی نہیں بلکہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے بہار”

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بیک وقت دو سنگین مسائل کو لے کر بہار حکومت اور دیگر متعلقہ انتظامی نظام