انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کرکٹ ایسوسی ایشن (بی سی اے) کا انتخاب اتوار کو بلا مقابلہ مکمل ہوا، جس میں محض 24 سالہ ہرش وردھن کو صدر منتخب کیا گیا۔ وہ سابق صدر راکیش تیواری کے فرزند ہیں اور بی سی اے کی تاریخ میں سب سے کم عمر میں یہ عہدہ سنبھالنے والے پہلے شخص بن گئے ہیں۔ اس تاریخی نتیجے نے نہ صرف بہار بلکہ پورے بھارتی کرکٹ حلقے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
انتخاب میں تمام عہدیداران بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ نائب صدر کے طور پر پریا کماری، سکریٹری کے طور پر ضیاء العارفین، خزانچی کے طور پر ابھیشیک نندن اور جوائنٹ سکریٹری کے طور پر روہت کمار کو منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ راجیش کمار کو ضلعی نمائندہ کمیٹی کا رکن اور گیانیشور گوتم کو گورننگ کونسل کا رکن بنایا گیا۔ یہ ساری انتخابی کارروائی الیکشن افسر ایم۔ مدثر (سابق آئی اے ایس) کی نگرانی میں ہوئی تاکہ شفافیت اور غیر جانبداری یقینی بنائی جا سکے۔
نئی عاملہ کی عمر 24 سے 50 برس کے درمیان ہے، جس سے تنظیم میں نئی توانائی اور وژن آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی ہرش وردھن نے واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح بہار میں کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کھلاڑیوں کو بہتر میدان، تربیتی سہولیات اور جدید وسائل دستیاب نہیں ہوں گے، تب تک ریاستی کرکٹ قومی سطح پر اپنی پہچان قائم نہیں کر پائے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ دیہی اور چھوٹے شہروں سے ابھرنے والی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیے جائیں گے۔ اس کے لیے ضلعی سطح پر ٹورنامنٹس، تربیتی کیمپس اور جدید کوچنگ سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا جائے گا “میرا ہدف تنظیم کو متحد رکھتے ہوئے ریاست میں کرکٹ کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ آنے والے برسوں میں بہار سے قومی اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار ہوں گے۔”
بی سی اے کے سامنے چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ گزشتہ برسوں میں تنظیم پر بدعنوانی اور انتخابی عمل میں شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے شکایات کی سماعت کرتے ہوئے بی سی اے کے خلاف ایک لوکپال مقرر کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ہرش وردھن کو ان پرانے تنازعات سے نکلنا ہوگا اور کھلاڑیوں و اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
بہار کرکٹ طویل عرصے سے قومی سطح پر اپنی مستقل شناخت بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر نئی عاملہ واقعی اپنے وعدوں پر عمل کرتی ہے تو آنے والے برسوں میں بہار سے نئے ستارے ابھر کر بھارتی کرکٹ کو روشن کر سکتے ہیں۔