بہار میں سرکاری پروگراموں کے لیے نیا ضابطہ نافذ: اب ’وندے ماترم‘ سے ہوگی شروعات، ’جن گن من‘ کے بعد بہار گیت کے ساتھ ہوگا اختتام؛ حکومت بولی “حب الوطنی اور ثقافتی شعور کو فروغ دینے کی پہل”، اپوزیشن نے اٹھائے سوالات

بہار حکومت نے ریاست کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں اور سرکاری پروگراموں کے لیے نیا ثقافتی پروٹوکول نافذ کر دیا ہے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری حکم کے مطابق اب سرکاری اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر سرکاری تقریبات کی شروعات قومی نغمہ ’وندے ماترم‘ سے کی جائے گی۔ اس کے بعد قومی ترانہ ’جن گن من‘ گایا جائے گا، جبکہ پروگرام کا اختتام بہار کے ریاستی گیت ’میرے بھارت کے کنٹھ ہار، تجھ کو شت شت وندن بہار‘ سے ہوگا۔

ریاستی حکومت نے 26 اپریل 2026 کو یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طلبہ اور نوجوانوں میں حب الوطنی، ثقافتی شعور اور بہار کی تاریخی شناخت کے تئیں احترام کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ اس حکم نامے کو ریاست کے تمام محکموں، ضلع مجسٹریٹوں، ڈویژنل کمشنروں اور تعلیمی اداروں کو بھیج دیا گیا ہے۔

تمام سرکاری اداروں پر نافذ ہوگا حکم

حکومت کی ہدایت کے مطابق یہ نظام ریاست کے سرکاری اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، تربیتی اداروں اور مختلف سرکاری محکموں کے پروگراموں میں نافذ ہوگا۔ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام عوامی تقریبات میں طے شدہ ترتیب پر عمل یقینی بنایا جائے۔

حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ترتیب اس طرح ہوگی:

پروگرام کی شروعات ’وندے ماترم‘ سے, اس کے بعد قومی ترانہ ’جن گن من‘, اور آخر میں بہار کے ریاستی گیت کا گایا جانا

بہار گیت کو بھی دی گئی خاص اہمیت

بہار حکومت نے پہلی بار ریاستی گیت کو سرکاری پروگراموں کے لازمی پروٹوکول کا حصہ بنایا ہے۔ ’میرے بھارت کے کنٹھ ہار، تجھ کو شت شت وندن بہار‘ کو سال 2012 میں بہار کے سرکاری ریاستی گیت کے طور پر قبول کیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست کی ثقافتی شناخت اور علاقائی وقار کو فروغ ملے گا۔

وندے ماترم‘ کو لے کر پہلے بھی رہا ہے تنازع

’وندے ماترم‘ کی تخلیق بنکم چندر چٹوپادھیائے نے کی تھی اور آزادی کی تحریک کے دوران یہ ایک اہم قومی نغمہ بن کر ابھرا۔ بعد میں اسے قومی گیت کا درجہ دیا گیا۔

تاہم اس گیت کو لے کر طویل عرصے سے تنازع بھی رہا ہے۔ مسلم تنظیموں اور بعض اقلیتی حلقوں نے اس کے کچھ حصوں میں مذہبی علامتوں کے ذکر پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی گیت کو لازمی قرار دینا شخصی آزادی اور مذہبی جذبات سے جڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

سیاسی ردعمل شروع

بہار حکومت کے اس فیصلے کا بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں نے اسے حب الوطنی اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے والا قدم قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس حکم پر سوال اٹھائے ہیں۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت تعلیم، بے روزگاری اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ثقافتی موضوعات کو آگے لا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے انتخابات سے قبل یہ مسئلہ بہار کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

قانونی اور آئینی بحث بھی تیز

آئینی ماہرین کے مطابق قومی علامات کے احترام کے حوالے سے عدالتوں کے کئی فیصلے آ چکے ہیں، لیکن کسی شخص کو کسی خاص گیت کے گانے کے لیے مجبور کرنا آئینی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

فی الحال بہار حکومت کے اس حکم نے ریاست میں قوم پرستی، ثقافتی شناخت اور آئینی حقوق کو لے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Bihar #BiharGovernment #VandeMataram #NationalSong #BiharStateSong #JanGanMan #NitishKumar #Patna #BiharNews #EducationNews #GovernmentOrder #HindiNews #InsaafTimes #BiharPolitics #NationalAnthem #CulturalPolitics #IndianPolitics #Schools #Colleges #Universities #GAD #BJP #RJD #Congress #MuslimIssues #Constitution #IndiaNews #BreakingNews #PatnaNews

ایس ڈی پی آئی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ: ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ فرقہ وارانہ بیان پر کارروائی کی جائے

سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر مبینہ طور

20 سال تک غیر ملکی آمدن پر ٹیکس معافی: ترکیہ کا بڑا داؤ، خلیجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوشش

ترکیہ نے عالمی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے