الہ آباد ہائی کورٹ نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ڈپٹی ایس پی محمد تنزیل احمد اور ان کی اہلیہ فرزانہ کے قتل کے کیس میں موت کی سزا پانے والے ملزم “ریان” کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس کیس میں استغاثہ نے ملزم پر الزامات کو شبہ سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے کافی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف شبہ یا قیاس کے بنیاد پر کسی کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
واقعے کا پس منظر
یہ واقعہ 2 اپریل 2016 کا ہے، جب بجنور کے سیاہرا علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے این آئی اے کے ڈپٹی ایس پی تنزیل احمد اور ان کی اہلیہ پر فائرنگ کی۔ دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تنزیل احمد پر 24 گولیوں کے زخم اور فرزانہ پر کئی دیگر چوٹوں کی تصدیق ہوئی۔
تحقیق اور نچلی عدالت کا فیصلہ
واقعے کے بعد یوپی پولیس اور این آئی اے نے مشترکہ تحقیقات کیں۔ ابتدائی تحقیقات میں ملزمان کی شناخت ہوئی اور کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ نچلی عدالت نے ریان اور اس کے ہم ملزم منیر کو قصوروار قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
ہائی کورٹ نے کہا کہ نچلی عدالت نے شواہد کی سنگین کمی کے باوجود ملزم کو قصوروار قرار دیا۔ ریان کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے اس کی موت کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ دوسری طرف، ہم ملزم منیر کی اپیل کے دوران انتقال ہو چکا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ شواہد پر مبنی انصاف کی ایک اہم مثال ہے۔ قتل جیسے سنگین مقدمات میں بھی اگر فارنسک شواہد، گواہیاں یا دیگر ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں تو عدالت سزا کو کالعدم کر سکتی ہے۔